پانچویں کلاس کی طالبہ نے چیف جسٹس آف انڈیا کو لکھا خط، کہا ’تھینک یو یور آنر‘

جسٹس این وی رمن نے بچی کے خط کے جواب میں سماجی فلاح وبہبود کے تئیں اس طالبہ کی تشویش کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’’میں آپ کی چوطرفہ کامیابی کی خواہش کرتا ہوں اور آشیرواد دیتا ہوں۔‘‘

عدالت کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
عدالت کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: ’’تھینک یو یور آنر... آئی فیلس پراؤڈ اینڈ ہیپی‘‘ (شکریہ عزت مآب... میں فخر اور خوشی محسوس کر رہی ہوں)۔ یہ الفاظ کیرالہ کے ترشور واقع سنٹرل اسکول کی پانچویں کلاس کی طالبہ لڈوینا جوزف نے ملک کے چیف جسٹس (سی جے آئی) این وی رمن کو تحریر ایک خط میں لکھے ہیں۔ اس طالبہ نے خط لکھ کر کورونا بحران میں عدالت عظمیٰ اور عدلیہ کی طرف سے کئے گئے کاموں کی تعریف کی ہے۔

جسٹس این وی رمن نے بچی کے اس خط کا جواب بھی دیا ہے۔ انھوں نے جواب میں سماجی فلاح وبہبود کے تئیں اس طالبہ کی تشویش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی چوطرفہ کامیابی کی خواہش کرتا ہوں اور آشیرواد دیتا ہوں۔ سی جے آئی نے لکھا ہے کہ ’’میں پوری طرح پر اعتماد ہوں کہ آپ ایک چوکس، معلومات رکھنے والی اور ذمہ دار شہری بنیں گی اور قومی کی تعمیر میں اہم کردار کریں گی۔‘‘ جج رمن نے لڈوینا جوزف کو نشانی کے طورپر خودکے دستخط والی آئین کی ایک کاپی بھی بھیجی ہے۔


طالبہ لڈوینا جوزف نے ہاتھ سے تحریر کردہ خط میں لکھا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر سے شہریوں کے دوچار ہونے اور ان کی اموات پر عدلیہ نے موثر طریقہ سے مداخلت کی۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ عدلیہ نے آکسیجن کی سپلائی پر آرڈر جاری کئے اور لاتعداد لوگوں کی جانیں بچائیں۔ عدالت عظمی کی مداخلت سے کووڈ-19کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کمی لانے میں مدد ملی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔