قومی

آلوک ورما سے خوفزدہ مودی حکومت، کرا سکتی ہے گرفتاری!

حکومت کو خدشہ ہے کہ عجیب طریقہ سے برطرف ہوئے آلوک ورما کچھ ایسا انکشاف کر سکتے ہیں جس سے حکومت کیلئے اس انتخابی سال میں مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں، لہذا ورما کو گرفتار بھی کرایا جا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

فراز احمد

’’میں ریٹائرمنٹ کی عمر پار کر چکا ہوں اور سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدہ تک کی مدت کے لئے خدمات انجام دے رہا تھا۔ لہذا حکومت کی طرف سے دی جانے والی تقرری قبول کرنا میرے لئے مناسب نہیں رہے گا۔‘‘ نہایت ہی ایماندار اور بہاردر شخص ہی یہ کہہ اس طرح کے الفاظ کہہ سکتا ہے۔

دراصل ان الفاظ کا استعمال کر کے آلوک ورما نے فائر سروس اینڈ ہوم گارڈز کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ نامنظور کر کے خود کو بے عزت ہونے سے بچا لیا۔ یوں بھی سی بی آئی میں ان کی مدت کار 31 جنوری کو ختم ہو رہی تھی اور فائر سروس اینڈ ہوم گارڈز میں وہ بمشکل تین ہفتوں تک ہی کام کر پاتے۔ ویسے تو انہیں گزشتہ سال جولائی میں ہی سبکدوش ہو جانا چاہئے تھا۔

اب اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہے کہ حکومت نے آلوک ورما کو سی بی آئی سے صرف اس لئے ہٹایا تاکہ گجرات کیڈر کے آئی پی ایس راکیش استھانہ کو بچایا جا سکے۔ استھانہ کو وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ دنوں کا قریبی مانا جاتا ہے۔ اور انہیں تعلقات کے پیش نظر انہیں سی بی آئی میں خصوصی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے حکومت کا ارادہ راکیش استھانہ کو سی بی آئی ڈائریکٹر بنانا تھا لیکن 2017 میں اس کے منصوبے ناکام ہو گئے کیوں کہ استھانہ کا بیچ جونئر تھا اور اس وقت اس عہدے کے لئے ان کے نام پر غور نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن یہ طے تھا کہ آلوک ورما کی مدت کار ختم ہوتے ہی استھانہ کو ہی عہدہ حاصل ہوگا۔

لیکن اب معلوم چلا ہے کہ آلوک ورما نے اسی وقت راکیش استھانہ کو خصوصی ڈائریکٹر بنائے جانے کی مخالفت کی تھی۔ ایسا کرنے کے لئے آلوک ورما جیسی ہمت درکار ہوتی ہے جو حکومت کے چہیتے افسر کی راہ میں کھڑا ہو جائے۔ لیکن ورما کو اپنا اعتراض اس لئے واپس لینا پڑا کیوں کہ استھانہ حکومت اور سی وی سی دونوں ہی استھانہ کو سی بی آئی میں چاہتے تھے۔ نتیجتاً سپریم کورٹ نے بھی استھانہ کو خصوصی ڈائریکٹر بنائے جانے کی مخالفت میں درج دائر کی جانے والی عرضی خارج کر دی۔

اس سب کا نتیجہ یہ تھا کہ آلوک ورما نے اپنا رخ سخت کر لیا۔ ابھی یہ تو صاف نہیں ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ راکیش استھانہ نے کابینہ سکریٹری سے آلوک ورما کے خلاف بدعنوانی کی شکایت کر دی۔ یہ براہ راست طور پر نافرمانی کا معاملہ تھا، پھر بھی کابینہ سکریٹری نے استھانہ کی شکایت کو سی وی سی کے سامنے بھیج دیا۔ اس کے بعد حکومت نے مہینوں تک اس شکایت کو دبائے رکھا۔

استھانہ کا قدم یو تو ورما پر دباؤ بنانے کے لئے تھا لیکن وہ دباؤ میں نہیں آئے اور انہوں نے راکیش استھانہ کے خلاف ہی گزشتہ سال ایف آئی آر درج کرا دی۔ استھانہ پر حیدرآباد کے ایک کاروباری سے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا۔ آلوک ورما نے اس کاروباری کو بیان درج کرایا اور معاملہ کی جانچ کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں جب گزشتہ 16 اکتوبر کو دبئی کے ایک مالی مشیر منوج پرساد کو گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد سی بی آئی کی جنگ کھل کر سامنے آ گئی۔

اس کے بعد راکیش استھانہ بچاؤ کا راستہ تلاش کرنے لگے اور ایس دوران سی وی سی کے وی چودھری نے آلوک ورما کو اپنے گھر بلا کر استھانہ کی شکایت کے بارے میں بات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی وی سی نے آلوک ورما سے 22 اکتوبر کو کہا کہ راکیش استھانہ کو چھوڑ دیں تو ان کے خلاف معاملہ ختم کر دیا جائے گا لیکن آلوک ورما نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا، باالفاظ دیگر انہوں نے اس بات سے انکار کر دیا۔

آلوک ورما کے رویہ کے پیش نظر سی وی سے کے وی چودھری نے ڈنمارک جانے کا اپنا دورہ رد کر دیا اور آناً فاناً میں رپورٹ دے دی کہ آلوک ورما اور راکیش استھانہ دونوں کو چھٹی پر بھیج دیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سفارش میں انہوں نے لکھا کہ سی بی آئی کی ساکھ بچانے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔

اس کے تقریباً 77 دن بعد جب سپریم کورٹ نے آلوک ورما کو بحال کیا تو ورما نے سب سے پہلا کام یہی کیا کہ انہوں نے ان تمام افسران کے تبادلے منسوخ کر دئے جو راکیش استھانہ کے خلاف جانچ کر رہے تھے۔ ورما کے اسی قدم سے حکومت میں ہلچل مچ گئی اور اس نے سی بی آئی ڈائریکٹر پر فیصلہ لینے کے لئے اعلیٰ اختیار حاصل کمیٹی کی میٹنگ طلب کر لی۔ میٹنگ میں حکومت نے آلوک ورما کو ہٹانے کا فیصلہ لیا۔ ورما کے ہٹتے ہی عبوری ڈائریکٹر ناگیشور راؤ نے ان تمام تبادلوں کے فیصلے کو بحال کر دیا جنہیں روکنے کی آلوک ورما نے کوشش کی تھی۔ کوشش یہی تھی کہ راکیش استھانہ کے خلاف جانچ میں مصروف افران کو دہلی سے دور رکھا جائے۔

آلوک ورما کا اپنی رضا سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ سی بی آئی کے اسکینڈل کو نہیں چھپا سکتا۔ یہ سب ہونے کے بعد راکیش استھانہ کے خلاف جانچ تو ہونی ہی چاہئے، ساتھ ہی اس پورے معاملہ میں سی وی سی کے کردار کا بھی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ زیر بحث ہے کہ راکیش استھانہ دہلی ہائی کورٹ کے خلاف اپیل کریں گے۔ استھانہ نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کیا جائے۔ اب دیکھا یہ ہے کہ ان کی اپیل پر عدالت عالیہ کا کیا رُخ رہتا ہے۔

اب سی بی آئی میں جو کچھ ہوا اس کی ایک بڑی قیمت آلوک ورما کو چکانا پڑ سکتی ہے، کیونکہ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی اور امت شاہ نے آلوک ورما کے خلاف جانچ کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ خواہ ورما کے خلاف جانچ کی نگرانی کرنے والے ریٹائرڈ جسٹس اے کے پٹنایک نے کہا ہو کہ ورما کے خلاف بدعنوانی کے کوئی الزامات نہیں تھے، پھر بھی اگر راکیش استھانہ کے بجائے آلوک ورما کو گرفتار کر لیا جائے تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔