اومیکرون کا پھیلاؤ بڑھنے کے ساتھ لوگوں کے ذہن میں ’ڈیل میکرون‘ کا خوف، کیا کہتے ہیں ماہرین!

ڈاکٹر نیہا گپتا کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اب تک ڈیلٹا ویریئنٹ ہی اہم اسٹرین ہے، اومیکرون اب تیزی سے ضرور پھیل رہا ہے لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہندوستان میں کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کو لے کر لوگ دہشت میں ہیں، اور کیسز کی تعداد بڑھنے پر کئی ریاستوں میں بندشیں بھی لگائی جا رہی ہیں۔ اس درمیان کورونا کے اگلے ویریئنٹ ’ڈیل میکرون‘ سے متعلق طرح طرح کی افواہیں پھیلنی شروع ہو گئی ہیں۔ ایسے میں طبی ماہرین نے عوام کو خوفزدہ نہ ہونے کی تلقین کی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کسی بھی طرح کی افواہ پر دھیان نہ دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او اور دیگر عالمی صحت اداروں کے مشوروں اور تبصروں کا انتظار کرنا چاہیے۔

اس درمیان مہاراشٹر کے سی-19 ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر ششانک جوشی کے حوالے سے ہندوستان میں ’ڈیل میکرون‘ کے بارے میں کئی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’یوروپ اور امریکہ میں ڈیلٹا اور اومیکرون کے معاملے بڑھنے کے ساتھ ہی ڈیل میکرون کی خبریں ہیں۔‘‘ حالانکہ ہندوستان میں ایسے کسی بھی ویریئنٹ کی اطلاع نہیں ہے۔ ساتھ ہی اومیکرون کے بعد سورس-کوو-2 وائرس کے ایک اور میوٹیشن کے بارے میں بھی کوئی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔


سنٹر فار کمیونٹی میڈیسن، ایمس، نئی دہلی کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ہرشل آور سالوے کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی ویریئنٹ فی الحال موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ابھی تک ڈیل میکرون نامی کوئی نیا کووڈ وائرس ویریئنٹ سامنے نہیں آیا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’اومیکرون بھی کوئی نیا وائرس نہیں ہے کیونکہ یہ ایک میوٹیٹیڈ کورونا وائرس ہے۔ اب تک دستیاب ثبوتوں کے مطابق اس کا پھیلاؤ زیادہ ہے، لیکن علامتیں ہلکی ہیں اس لیے اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

میدانتا، گڑگاؤں کی وبائی امراض ماہر ڈاکٹر نیہا گپتا کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ہندوستان میں اب تک ڈیلٹا ویریئنٹ ہی اہم اسٹرین ہے۔ اومیکرون اب تیزی سے ضرور پھیل رہا ہے لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ ’’ابھی تک کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کے مقابلے میں اومیکرون ویریئنٹ میں صرف 3 دنوں کی ایک چھوٹی (انکیوبیشن) مدت ہوتی ہے جو 28-2 دن ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تیسری لہر کم مدت کی ہوگی اور اگر کورونا کے ضابطوں پر ٹھیک سے عمل نہیں کیا جاتا ہے تو معاملے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ابھی ڈیل میکرون ویریئنٹ کے لیے بے کار میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔