یو پی کی اِندرَا، پرینکا گاندھی... ظفر آغا

عوام لیڈر اسی کو مانتے ہیں جو ان کے حقوق کے لیے بے خطر لڑنے کو تیار ہو۔ بس لوگوں کو پرینکا گاندھی میں ان کی دادی کا روپ نظر آنے لگا اور وہ راتوں رات یو پی کی سب سے قدآور لیڈر بن گئیں

پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

ظفر آغا

جس کی امید کسی کو نہ تھی، پرینکا گاندھی نے وہ کر دکھایا۔ اتر پردیش میں پچھلے بیس سالوں سے مردہ کانگریس پارٹی کو چند دنوں کے اندر اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا۔ وہ کانگریس جس کو یو پی میں اکثر علاقوں میں چناؤ کے روز پولنگ ایجنٹ نہیں ملتے تھے، وہی کانگریس لکھیم پور کھیری حادثہ کے بعد پورے صوبہ میں شہر شہر سڑکوں پر احتجاج کر رہی تھی۔ اور یہ کمال تھا پرینکا گاندھی کا۔ آپ واقف ہیں کہ لکھیم پور کھیری میں پچھلے ہفتے مبینہ طور پر مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بی جے پی کی مخالفت کر رہے کسانوں پر گاڑی چڑھا دی، جس میں چار کسانوں کی موت ہو گئی۔ پھر کسانوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور کسانوں نے بی جے پی کارکنان پر حملہ بول دیا۔ جس میں چار بی جے پی والے مارے گئے۔ بس اس خبر کے آتے ہی پرینکا گاندھی دہلی سے لکھیم پور کھیری کے لیے روانہ ہو گئیں۔ لیکن لکھیم پور کھیری کے قریب صبح چار بجے یو پی پولیس نے ان کو حراست میں لے لیا۔ اور بس یہیں سے یو پی میں وہ سیاسی قصہ شروع ہو گیا جو کبھی سنہ 1978 میں ان کی دادی اندرا گاندھی کے وقت ان کے ساتھ ہوا تھا۔

ادھر یو پی کے گھبرائے وزیر اعلیٰ نے پرینکا کو نظربند کیا، اور اُدھر پرینکا نے پولیس حراست میں یہ احتجاج شروع کیا کہ ان کو کسانوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا جمہوری حق ہے اور ان کو وہاں جانے سے روکا نہیں جا سکتا ہے۔ بس ایسا ہی کچھ اندرا گاندھی کے ساتھ ہوا تھا جب وہ اقتدار سے باہر تھیں۔ وہ جنتا پارٹی کا دور اقتدار تھا۔ ایمرجنسی کے بعد عوام اندرا گاندھی سے ناراض تھے۔ کانگریس برے حالات کا سامنا کر رہی تھی۔ خبر آئی کے بہار کے ایک گاؤں بیلچی میں دلتوں کو مار دیا گیا۔ بس اندرا گاندھی ان کے خاندان والوں سے ملنے کے لیے بیلچی کے لیے نکل پڑیں۔ بہار کی جنتا پارٹی حکومت نے ان کو روکا۔ وہ پہلے پیدل، پھر ناؤ پر سوار ہو کر، اور آخر میں ہاتھی پر سوار ہو کر بیلچی پہنچ گئیں۔ ادھر سارے ملک میں مردہ کانگریس یکایک سڑکوں پر نکل گئی۔ بس وہ کانگریس جو 1977 میں اقتدار سے باہر ہو کر بدحال تھی وہی کانگریس 1980 میں اندرا گاندھی کی قیادت میں واپس اقتدار میں آئی۔


لکھیم پور کھیری میں پرینکا کے بھی کچھ وہی تیور تھے جو سنہ 1978 میں اندرا گاندھی کے تھے۔ لکھیم پور جانے دو! پرینکا کی اس مانگ نے لوگوں کے دلوں کو چھو دیا۔ ادھر گھبرائی ہوئی بی جے پی حکومت نے ان کو دو دن بعد باقاعدہ قید کر لیا۔ لیکن ان کو کوئی ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی گئی۔ جیسے جیسے یو پی حکومت کا ظالمانہ رویہ تیز تر ہوتا گیا، ویسے ویسے پرینکا کی مانگ اور کانگریس کا احتجاج بڑھتا گیا۔ لیکن اس بار صرف کانگریس ہی سڑکوں پر نہیں تھی، بلکہ عوام میں بھی حکومت کے خلاف غصہ پھیل رہا تھا۔ ایک تو کسانوں کو کچل کر مار دیا گیا، اور پھر پرینکا کو زور زبردستی سے ان تک پہنچنے پر پابندی۔ لوگوں نے ویڈیو پر سارے مناظر دیکھ لیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب پرینکا گاندھی یو پی کی سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ اکھلیش یادو اور مایاوتی کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ وہ حکومت سے لڑنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ فی الحال پرینکا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی مقبولیت اتر پردیش میں راتوں رات بے حد بڑھ گئی ہے۔

لیکن پرینکا کی مقبولیت کا راز یہ ہے کہ ایک عرصہ بعد پوری ہندوستانی سیاست میں ایک ایسے لیڈر کے روپ میں ابھر کر آئی ہیں جس کے بارے میں عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دادی کی طرح نڈر اور بے باک لیڈر ہیں، جو مودی اور یوگی جیسے لیڈروں سے لوہا لینے کو تیار ہیں۔ عوام لیڈر اسی کو مانتے ہیں جو ان کے حقوق کے لیے بے خطر لڑنے کو تیار ہو۔ بس لوگوں کو پرینکا گاندھی میں ان کی دادی کا روپ نظر آنے لگا۔ اور وہ راتوں رات یو پی کی سب سے قدآور لیڈر بن گئیں۔ اب دیکھیے یو پی کے چند ماہ بعد ہونے والے چناؤ میں یو پی کی یہ نئی نویلی اندرا گاندھی کیا رنگ دکھاتی ہیں۔

--


باپ مرکزی وزیر اور بیٹا جیل میں

باپ مرکزی وزیر اور بیٹا جیل میں! جی ہاں، آپ سہی سمجھے۔ یہ لکھیم پور کھیری کے رسوائے زمانہ باپ بیٹے کا ہی ذکر ہے۔ والد محترم اجے مشرا ٹینی اس کالم کے لکھے جانے تک مرکزی کابینہ میں امت شاہ کی سرپرستی میں وزارت داخلہ میں جونیئر وزیر تھے۔ ادھر تمام حزب مخالف ان کے استعفیٰ کی مانگ کر رہی تھی جب کہ کسانوں کے لیڈر راکیش ٹکیت نے یہ دھمکی دے دی تھی کہ اگر وزیر موصوف سے استعفیٰ نہیں لیا گیا تو کسان 18 نومبر کو ریل روکو احتجاج کریں گے۔ بات بالکل واضح ہے کہ اجے مشرا کو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ بھلا اس کے بغیر لکھیم پور کھیری جیسے دل دہلانے والے واقعہ کے بعد مشرا جی بھلا مرکزی کابینہ میں ابھی تک کیسے برقرار ہیں۔ لیکن دوسری جانب انہی کے بیٹے آشیش مشرا اتر پردیش میں لکھیم پور کھیری میں چار کسانوں کو گاڑی سے کچل کر مارنے کے الزام میں جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ بات ذرا چوکانے والی ہے، کیونکہ وہ مرکز ہو یا پھر اتر پردیش، دونوں جگہ پر بی جے پی کی ہی حکومت ہے۔ مگر پھر بھی ان دونوں جگہوں پر بی جے پی کی ایک ہی معاملے میں حکمت عملی الگ الگ کیوں!

یہ ایسا کوئی اتنا بڑا سیاسی معمہ نہیں کہ بالکل سمجھ میں نہ آئے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ لکھیم پور واقعہ پر مرکز اور یو پی حکومت کے بیچ اختلافات ہیں۔ اور یہ اختلافات حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ شخصیات کے درمیان ہیں۔ ایک عرصے سے سیاسی حلقوں میں یہ چہ می گوئیاں تھیں کہ مودی اور یوگی میں نہیں بنتی ہے۔ لکھیم پور واقعہ پر مرکز اور حکومت اتر پردیش کے درمیان باپ بیٹے کے ساتھ جس طرح نرم اور گرم طریقے سے برتاؤ کیا جا رہا ہے اس نے آخر اس بات کو عام کر دیا کہ مودی-یوگی میں زبردست ٹھنی ہوئی ہے۔ لیکن کیوں!


آج کے دور میں سیاسی اختلافات اقتدار کو ہی لے کر ہوتا ہے۔ بس یہاں بھی یہی ہے۔ یوگی جی کی نگاہیں وزارت عظمیٰ کی کرسی پر ہیں۔ بھلا مودی جی کو یہ کیسے برداشت ہو سکتا ہے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ وہ یوگی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا پا رہے ہیں۔ یہ بھی ایک چونکانے والی بات ہے۔ کیونکہ ہندوتوا سیاست کے سب سے قدآور لیڈر مودی ہیں، جن کے آگے کسی کی چلتی نہیں۔ پھر بھی وہ یوگی کے آگے بے بس ہیں۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہندوتوا سیاست میں کوئی کتنا ہی قدآور کیوں نہ نظر آتا ہو، مگر حقیقت یہی ہے کہ اس سے بھی کوئی بلند و بالا درپردہ موجود ہوتا ہے۔ ارے بھائی سَنگھ یعنی آر ایس ایس سے بڑھ کر ہندوتوا سیاست کا کون کھلاڑی ہو سکتا ہے۔ اور مودی کو بھی ان سے دبنا پڑتا ہے۔ کیونکہ سَنگھ کی تنظیمی قوت اور مدد کے بغیر مودی جیسا لیڈر بھی چناؤ نہیں جیت سکتا ہے۔ ملک میں چناؤ کے ہار-جیت کی فضا بنانے کا کام آر ایس ایس ہی کرتی ہے اور مودی کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے۔ اور یوگی کو بس سَنگھ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اسی لیے وہ یوگی آدتیہ ناتھ کی دست درازیوں کے باوجود انھیں برداشت کرتے ہیں۔ لیکن سنگھ آخر یوگی کی حمایت کیوں کرتا ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ بی جے پی میں کوئی بھی لیڈر کتنا ہی قدآور کیوں نہ ہو جائے، وہ لیڈر کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ اس کی جو بھی حیثیت ہے وہ سنگھ کی بدولت ہے۔ اور یہ کام وہ لیڈر کے ساتھ ایک نمبر ٹو لیڈر بنا کر کرتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب بی جے پی میں اٹل بہاری واجپئی سب سے بلند و بالا تھے تو سَنگھ ان کو خاموش رکھنے کا کام لال کرشن اڈوانی سے کرواتا تھا۔ اب مودی سب سے قدآور لیڈر ہیں، تو یہی کام یوگی آدیتہ ناتھ سنگھ کے لیے کر رہے ہیں۔

اب سمجھ گئے نا کہ باپ مرکزی وزیر اور بیٹا پھر بھی کیوں جیل میں ہے۔ دراصل یہ معاملہ لکھیم پور کھیری کا نہیں بلکہ مودی اور سَنگھ کے درمیان کا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Oct 2021, 10:11 AM