فرخ آباد: 23 بچوں کی رہائی کے عوض 23 کروڑ تاوان چاہتا تھا مجرم سبھاش

پولیس کے مطابق بچوں کو یرغمال بنانے والے شخص نے 23 کروڑ تاوان طلب کئے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بچوں رہا کرانا کافی مشکل تھا لیکن پولیس کی جانب سے دکھایا گیا صبر قابل تعریف ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش حکومت نے جمعہ کے روز انکشاف کیا ہے کہ فرخ آباد میں 23 بچوں کو یرغمال بنانے والے مجرم سبھاش باتھم کی جانب سے فی بچہ ایک کروڑ کا تاوان طلب کیا گیا تھا۔ مجرم چاہتا تھا کہ اسے 23 بچوں کے عوض کل 23 کروڑ کا تاوان ادا کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بچوں رہا کرانا انتہائی مشکل تھا لیکن اس ضمن میں پولیس کی جانب سے دکھایا گیا صبر قابل تعریف ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ رات فرخ آباد کے محمد آباد کوتوالی علاقے میں ایک شخص نے بیٹی کی سالگرہ کے بہانے 24 بچوں کو اپنے گھر کے اندر بلا کر ان کو یرغمال بنا لیا تھا۔ دیر رات گئے تک چلے ہائی ولٹیج ڈرامہ کے بعد پولیس نے اغوا کار کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس آپریشن میں شامل پولیس اہلکار کو 10 لاکھ روپئے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کے ترجمان نے یہاں گذشتہ رات ہونے والے پورے واقعہ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مجرم سبھاش باتھم نے بچوں کو رہا کرنے کے عوض میں فی بچہ ایک کروڑ روپئے کے حساب سے 23 کروڑ روپئے کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد اس نے بچوں کو مارنے کی دھمکی دی۔

مجرم نے کہا کہ وہ کسی کو قتل کرنے سے نہیں ڈرتا اور وہ ماضی میں بھی ایسی کئی واردات انجاد دے چکا ہے۔ ایک موقع پر اس نے گاؤں والوں سے بات کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ گھر کو بم سے اڑا دے گا۔ وہاں موجود لوگوں نے اسے گھر کے اندر بم لگاتے اور فرش پر آتش گیر مادہ بہاتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے آپریش کے درمیان ایک نو ماہ کے بچے اور مجرم کے بیٹی کو مشتعل گاؤں والوں کی لنچنگ سے بچایا۔پولیس کے انکاونٹر میں سبھاش ہلاک ہوگیا جبکہ اس کی بیوی روبی کو گاؤں والوں نے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق حالات اس وقت مزید سنگین ہو گئے تھے جب یہ معلوم ہوا کہ مجرم شخص نے گھر کے اندر کثیر مقدار میں دھماکہ خیز مواد اکٹھا کر رکھا ہے اور وہ گھر کو اڑانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اس آپریش کے دوران مقامی رہائشی انوپم دوبے، ایس ایچ او محمود آباد راکیش کمار، ہیڈ کانسٹیبل جئے ویر سنگھ اور کانسٹیبل انل کمار مجرم کی فائرنگ میں زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق آدھی رات کے بعد جب مجرم تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا تو پولیس نے گاؤں والوں کے تعاون سے باتھم کے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی۔ پولیس کو گھر کے اندردیکھ کر باتھم نے فائرنگ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اس وجہ سے کسی بھی بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور بعد میں مجرم پولیس کی گولی سے مارا گیا۔

next