جموں و کشمیر : فاروق عبداللہ کی بہن، بیٹی و دیگر 11 خواتین ضمانت پر رہا

ڈاکٹر عبداللہ کی بہن ثریا اور ان کی بیٹی کےساتھ 11 دیگر خواتین کو دفعہ 107 کے تحت 10 ہزار روپے مچلکے اور 40 ہزار روپے کی ضمانتی رقم کی ادائیگی کے بعد آزاد کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر میں منگل کے روز مودی حکومت کے خلاف کئی خواتین نے مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرہ تھا ریاست سے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹانے کے ساتھ ساتھ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے۔ اس مظاہرے کی قیادت فاروق عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ کر رہی تھیں جنھیں بی ایس ایف کے جوانوں نے فوری طور پر حراست میں لے لیا تھا۔ تازہ خبروں کے مطابق ان دونوں کو بدھ کی شب ضمانت پر آزاد کر دیا گیا ہے۔

خبروں کے مطابق ثریا اور صفیہ کے ساتھ ساتھ 11 دیگر خواتین کو بھی اس مظاہرے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا اور پھر صفیہ سمیت ان سبھی کو منگل کے روز عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ بدھ کی شب ان سبھی کو ضمانت مل گئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق کچھ افسران نے بتایا کہ ڈاکٹر عبداللہ کی بہن ثریا اور ان کی بیٹی کےساتھ 11 دیگر خواتین کو دفعہ 107 کے تحت 10 ہزار روپے مچلکے اور 40 ہزار روپے کی ضمانتی رقم کی ادائیگی کے بعد آزاد کیا گیا۔

سنٹرل جیل سری نگر میں بند خواتین کو بدھ شام تقریباً 6 بجے کے قریب چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت نے ضمانت دی۔ ان سبھی کو بی ایس ایف کے جوانوں کے ذریعہ حراست میں لیے جانے کے بعد عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا اور پھر 10 ہزار مچلکے اور 40 ہزار روپے کی ضمانت پر رِہا کیا گیا۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ 5 اگست کو جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی آئین کی دفعہ 370 کی سہولت ختم کرنے اور ریاست کو مرکز کے ماتحت دو ریاستوں میں تقسیم کے فیصلے کا اعلان کیے جانے کے بعد سے ہی وہاں کے حالات معمول پر نہیں آ رہے ہیں۔ کئی بار مودی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ 5 اگست کے بعد سے ہی ریاست کے افسران نے تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ سمیت مختلف سیاسی لیڈروں کو حراست میں لیا تھا اور یہ حراست اب بھی برقرار ہے۔

Published: 17 Oct 2019, 1:15 PM