قید سے رہائی کے بعد چھلكا فاروق عبداللہ کا درد، بولے- میں خوش نصیب ہوں

فاروق عبداللہ نے کہا کہ میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ سینکڑوں کشمیری خاندانوں کے مقابلے میں زیادہ خوش نصیب رہا ہوں کیونکہ مجھے اپنے گھر میں نظربند کیا گیا تھا اور میرے اہل خانہ کی مجھ تک رسائی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: زائد از سات ماہ بعد خانہ نظربندی سے رہائی پانے والے نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اتوار کو اپنا پہلا تحریری بیان جاری کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے تمام سیاسی لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ یک زبان ہوکر حکومت ہندوستان پر زور دیں کہ وہ ملک کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں بند کشمیریوں کو فوری طور پر کشمیر منتقل کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ اور مطالبہ ہے اور مجھے امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس مطالبہ کوحکومت ہند کے سامنے رکھنے میں میرا ساتھ دیں گے۔ ان کا ساتھ ہی یہ کہنا ہے کہ اگرچہ ہم ان سب قیدیوں کو جلد از جلد رہا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن فی الوقت انہیں فوری طور پر جموں وکشمیر منتقل کیا جانا چاہیے۔

فاروق عبداللہ نے اپنے بیان میں ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص اترپردیش کی جیلوں میں بند کشمیری نوجوانوں کا براہ راست ذکر کیے بغیر کہا کہ بہت سارے والدین یا اہل خانہ ایسے ہیں جن کے پاس اپنے لخت جگروں سے ملنے جانے کے لئے مالی وسائل بھی نہیں اور نہ ہی وہ ان جیلوں کے آس پاس قیام کرنے کی بساط رکھتے ہیں۔ مالی دشواریوں سے دوچار ان خاندانوں کے لئے اب کورونا وائرس کی صورت میں ایک نئی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے، جس نے ان کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

تین بار جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے فاروق عبداللہ جنہوں نے جمعہ کو اپنی رہائی کے بعد دیگر سیاسی لیڈران کی رہائی تک کوئی سیاسی بیان نہ دینے کی بات کہی تھی، نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ سینکڑوں کشمیری خاندانوں کے مقابلے میں زیادہ خوش نصیب رہا ہوں کیونکہ مجھے اپنے گھر میں نظربند کردیا گیا تھا اور میرے اہل خانہ کی مجھ تک رسائی تھی۔

موصوف نے سیاسی بیان نہ دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ '13 مارچ کو نظربندی سے رہائی پانے کے بعد میں نے جان بوجھ کر سیاسی بیان دینے سے گریز کیا۔ میں آزادانہ اور بے باک سیاسی خیالات کے تبادلے میں یقین رکھتا ہوں تاکہ ہم جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد ہوئی اہم تبدیلیوں کا احاطہ کرسکیں، تاہم ہم اُس سیاسی ماحول سے ابھی بہت دور ہیں جہاں ایسا کرنا ممکن ہو، خاص طور اس لئے کیونکہ گزشتہ سال اگست میں گرفتار کیے گئے افراد میں سے بیشتر ابھی ریاست اور ریاست کے باہر جیلوں میں نظربند ہیں'۔

انہوں نے جموں وکشمیر سے باہر کی جیلوں میں بند کشمیریوں کا اپنے بیان میں خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ایسے سینکڑوں خاندان ہیں جن کے لخت جگر دور دور ریاستوں میں نظربند رکھے گئے ہیں۔ ان والدین اور اہل خانہ کو اپنے لخت جگروں سے ملنے کے لئے مہینے میں صرف 2 بار اجازت ملتی ہے اور اس کے لئے انہیں کثیر خرچ کرنا پڑتا ہے اور بہت سارے والدین یا اہل خانہ ایسے ہیں جن کے پاس اس کے لئے مالی وسائل بھی نہیں اور نہ ہی وہ ان جیلوں کے آس پاس قیام کرنے کی بساط رکھتے ہیں'۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا ہے کہ 'مالی دشواریوں سے دوچار ان خاندانوں کے لئے اب کورونا وائرس کی صورت میں ایک نئی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے، جس نے ان کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کو سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے ان خاندانوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے پیاروں سے صرف چند گھنٹوں کی ملاقات کے لئے اپنی قیمتی جان کو خطرہ میں ڈالیں'۔

فاروق عبداللہ نے سیاسی لیڈران سے کشمیر سے باہر کی جیلوں میں بند کشمیریوں کی وادی منتقلی پر یک جٹ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 'اس سے پہلے سیاست ہمیں تقسیم کرے میں ریاست کے تمام سیاسی لیڈران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یک زبان ہوکر حکومت ہند پر زور دیں کہ جموں وکشمیر سے باہر نظربند ریاستی قیدیوں کی فوری واپسی عمل میں لائی جائے۔ اگرچہ ہم ان سب کو جلد از جلد رہا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم اس سے قبل ہی انہیں جموں وکشمیر منتقل کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک انسانی مسئلہ اور مطالبہ ہے اور مجھے امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس مطالبہ کوحکومت ہند کے سامنے رکھنے میں میرا ساتھ دیں گے'۔

next