پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کی واپسی کے بعد کسان احتجاج ختم کریں گے: کسان لیڈر

چوہدری انل ملک نے کہا کہ جب تک تینوں قانون، ایم ایس پی پر گارنٹی پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہوتے، کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

زرعی قوانین کی واپسی پر سنگھو بارڈر پر جشن / تصویر قومی آواز / وپن
زرعی قوانین کی واپسی پر سنگھو بارڈر پر جشن / تصویر قومی آواز / وپن
user

یو این آئی

شاملی: وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے تین متنازع قوانین کے واپس لئے جانے کے اعلان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کسان یونین کے صدر سوِت ملک نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ میں قانون واپس نہیں ہوتا، کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

کسان یونین کے صدر سوِت ملک نے اتوار کو کہا کہ گرو نانک دیو جی کے یوم پیدائش کے موقع پر وزیر اعظم نے کسانوں کے درد کو سمجھا اور تین زرعی قوانین کو واپس لے کر کسانوں کے تئیں بڑا فیصلہ لیا۔ وہ وزیر اعظم کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن جب تک تینوں زرعی قوانین پارلیمنٹ میں واپس نہیں ہوتے کسانوں کی تحریک جاری رہے گی۔


دوسری جانب کسان رہنما چوہدری انل ملک نے کہا کہ کسانوں کی طویل جدوجہد کے بعد ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تین زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا ہے، کسان اسے مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں، لیکن ملک کے کسانوں کو وزیر اعظم کی باتوں پر اعتبار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تینوں قانون، ایم ایس پی پر گارنٹی پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہوتے، کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔ متحدہ کسان مورچہ کی قیادت میں 22 نومبر کو لکھنؤ میں ہونے والی پنچایت میں لاکھوں کسان شرکت کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔