کسان تحریک: 3 گھنٹے کا چکہ جام، ایک منٹ ہارن بجا کر احتجاج، کسان اور پولیس دونوں تیار

سنیوکت مورچہ نے واضح کردیا ہے کہ چکہ جام کے ذریعہ ان کا ارادہ لوگوں کو پریشان کرنے کا نہیں ہے، بلکہ وہ حکومت کو آئینہ دکھانا چاہتے ہیں۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کسان آج دہلی-این سی آر، اترپردیش اور اتراکھنڈ کے علاوہ ملک بھر میں دوپہر 12 بجے سے شام 3 بجے تک چکہ جام کریں گے۔کسان سنیوکت مورچہ کے رہنما ، ڈاکٹر درشنپال نے جمعہ کی شام کنڈلی بارڈر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کسانوں نے ہفتے کے روز چکہ جام کی پوری تیاری کرلی ہے۔ اس کے لئے سب سے اہم ہدایت پرامن نظام کے حوالے سے دی گئی ہے۔ نوجوانوں سے خصوصی طور سے لوگوں کے بہکاوے میں نہ آنے اور امن وسکون برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔

پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ صرف دوپہر 12 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کا چکہ جام رہے گا۔ تین بجے احتجاج میں شریک تمام افراد ایک منٹ کے لئے اپنی گاڑیوں کاہارن بجاکر حکومت کوبیدارکرنے کا کام کریں گے۔ اسکول بسوں ، ایمبولینسوں اور بیمار لوگوں کو چکہ جام میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے لئے بھی خاص طور سے ہدایت دی گئی ہے۔


یہاں ، غازی پور بارڈر سے بھارتی کسان ہونین لیڈر راکیش ٹکیت نے دہلی این سی آر، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں چکہ جام نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے پیچھے انہوں نے گنا کسانوں اور مقامی صورت حال کا حوالہ دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک وہم پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں مورچہ میں کسی طرح کی پھوٹ تو نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ، کسان سنیوکت مورچہ نے واضح کردیا ہے کہ ان کا ارادہ لوگوں کو پریشان کرنے کا نہیں ہے، بلکہ وہ حکومت کو آئینہ دکھانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو لگتا ہے کہ یہ کچھ لوگوں کی تحریک ہے، تو اس وہم کو دور کرنے کے لئے یہ چکہ جام رکھا گیا ہے تاکہ حکومت کو پورے ملک کی تصویر کا پتہ چلے۔

پولیس نے چکہ جام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ کنڈلی میں تحریک کے مقام کے آس پاس قومی شاہراہ نمبر-44 اور کے جی پی-کے ایم پی ایکسپریس وے پر سکیورٹی فورسز کی 26 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں ہریانہ پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستوں کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ جمعہ شام کو ہی یہ کمپنیاں اپنے اپنے علاقوں میں تعینات کی گئیں ہیں۔ چکہ جام کے دوران امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 06 Feb 2021, 8:11 AM