ایم ایس پی گارنٹی قانون بننے تک کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا: راکیش ٹکیٹ

راکیش ٹکیت نے کہا کہ مرکزی حکومت ایم ایس پی پر بات کرنے سے کترا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کسانوں کو ایم ایس پی کی ضمانت دینے کے لیے ایک قانون لائے۔

تصویر محی الدین التمش
تصویر محی الدین التمش
user

محی الدین التمش

ممبئی: بھارتیہ کسان یونین کی ممبئی کے آزاد میدان میں منعقد مہا پنچایت میں ہزاروں کی تعداد میں کسانوں اور مزدوروں نے شرکت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی کسان مخالف پالیسی کے خلاف آواز بلند کی۔ سمیوکت شیتکاری کامگار مورچہ کے تحت ممبئی کے آزاد میدان میں منعقد اجلاس میں بھارتیہ کسان یونین لیڈر راکیش ٹکیت نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ مودی سرکار ملک کی ملکیت کو بیچنے کا کام کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کی 182 اناج منڈیوں کو کمزور بتاکر فروخت کیا جا رہا ہے۔ ریلوے، بندرگاہ، ایل آئی سی اور پٹرولیم کمپنی سب برائے فروخت ہیں۔ سنیوکت کسان مورچہ ملک کے کونے کونے میں تحریک کو لے جائے گا۔ یہ اندولن لمبا چلے گا کیوں کہ اس کسان تحریک میں ساڑھے سات سو کسانوں کی جان گئی ہے۔


کسان رہنما راکیش ٹکیت نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مرکز ملک میں کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت دینے کے لیے پارلیمنٹ سے قانون پاس کرائے، ٹکیت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اس وقت وہ ایم ایس پی کے حامی تھے۔ وہ گجرات اور ملک کے کسانوں کے مفادات کو یقینی بنانے کے لیے ملک گیر قانون چاہتے تھے۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ مرکزی حکومت ایم ایس پی پر بات کرنے کترا رہی ہے۔ ٹکیت نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کو کسانوں کو ایم ایس پی کی ضمانت دینے کے لیے ایک قانون لانا چاہیے۔ زراعت اور مزدوری کے شعبوں سے متعلق کئی مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ن کمیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہم پورے ملک کا سفر کرنے کو تیار ہیں۔ راکیش ٹکیت نے مطالبہ کیا کہ کسان تحریک میں مرنے والے کسانوں کے رشتہ داروں کو مالی مدد فراہم کی جائے۔


واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کسانوں سے متعلق تین قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تینوں قوانین کسان احتجاج کا مرکز تھے۔ کسان نومبر 2020 سے دہلی کی سرحدوں پر اس مطالبے کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں، کسان تنظیمیں کسان کی پیداوار، تجارت اور کامرس (فروغ اور سہولت) ایکٹ 2020، کسانوں کے (امپاورمنٹ اور تحفظ) معاہدے پر قیمت کی یقین دہانی اور فارم سروسز ایکٹ، 2020 اور ضروری اشیاء (ترمیمی) ایکٹ، 2020 کو واپس لئے جانے کے مطالبے کو لے کر دہلی بارڈر پراحتجاج کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ فصلوں پر MSP قانون کو نافذ کرنے کے لیے ایک نیا قانون لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس مہاپنچایت میں کسان اور مزدور تنظیموں کے لیڈران نے بھی شرکت کی، یوگیندر یادو نے کہا کہ حکومت کے نمائندگان جب کسان لیڈران سے گفتگو کرنے کے لئے آتے تھے تو ان کا صاف کہنا تھا کہ قانون واپس نہیں لیا جائے گا کیونکہ یہ مودی جی کے آتم سمان کی بات ہے۔ اس کے علاوہ جو چاہیں کروا لیجئے۔ لیکن مودی نے کسان تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور خود قانون واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ تینوں قانون یوپی سمیت پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخاب کے پیشِ نظر واپس لیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔