یوگی کی پولس اور محکمہ بجلی سے پریشان کسان کے بیٹے نے کی خودکشی

محکمہ بجلی کی ہراسانی سے دلبرداشتہ ہوکر کسان کے بیٹے کی خودکشی کی خبر پھیلتے ہی بڑ گاؤں علاقے کے آس پاس کے ہزاروں کسانوں نے آج صبح تقریباً سات بجے سہارنپور-دیوبند ہائی وے کو جام کردیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کی یوگی حکومت میں جرائم کے واقعات تو لگاتار بڑھ ہی رہے ہیں، پولس اور سرکاری محکموں کے افسران کے ذریعہ معصوم لوگوں کو پریشان کرنے کی خبریں بھی لگاتار سرخیاں بنتی رہی ہیں۔ تازہ معاملہ سہارنپور کا ہے جہاں محکمہ بجلی اور پولس محکمہ کی ہراسانی سے دلبرداشتہ کسان کے ایک بیٹے نے خودکشی کرنے جیسا قدم اٹھایا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے بڑگاؤں علاقے میں محکمہ بجلی اور پولس کے استحصال سے دلبرداشتہ کسان کے جوان بیٹے نے زہر کھا کر خود کشی کرلی ۔خود کشی سے مشتعل ہوئے مقامی لوگوں نے سڑک جام کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے اور معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ محکمہ بجلی کے افسران نے سملانہ باشندہ کسان ٹھاکر مدن سنگھ سے بجلی بل کے بقایا جات کی اصولی کے لئے بدسلوکی کی ،جس سے دلبرداشتہ ہوکر کسان نے بیتے جانی عرف گلاب سنگھ(33) نے خود کشی کرلی۔ اطلاعات کے مطابق مدن سنگھ پر بجلی کے 35 ہزار روپئے کا بقایا ہے۔ بل کی اصولی کے لئے اسسٹنٹ انجینئر سنیل کمار، سب انسپکٹر جئے پرکاش ان کے گھر گئے تھے۔

محکمہ بجلی کی ہراسانی سے دلبرداشتہ ہوکر کسان کے بیٹے کی خودکشی کی خبر پھیلتے ہی بڑ گاؤں علاقے کے آس پاس کے ہزاروں کسانوں نے آج صبح تقریبا ًسات بجے سہارنپور-دیوبند ہائی وے کو جام کردیا۔انہوں نے قصورواں کے خلاف سخت کاروائی کرنے اور متأثر کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ اعلی افسران کی ہدایت پر بڑ گاؤں تھانے میں انجینئر اور داروغہ کے خلاف نوجوان کو خودکشی کرنے کے لئے مجبور کرنے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعات 306 اور506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔