کسان تحریک: ایک اور احتجاجی نے کی خودکشی، وکیل نے ’خودکشی نوٹ‘ لکھ کر کھایا زہر!

وکیل امرجیت سنگھ نے جو خودکشی نوٹ لکھا ہے اس میں اپنی موت کے لیے پی ایم مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور لکھا ہے کہ تینوں زرعی قوانین کسانوں و مزدوروں کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں میں غصہ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے اور دہلی کے بارڈرس پر مظاہرین کی تعداد میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس درمیان ایک وکیل کے ذریعہ کسانوں کی حمایت میں اور مودی حکومت سے ناراضگی ظاہر کرنے کے مقصد سے خودکشی کیے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق ٹیکری بارڈر پر کسانوں کے ذریعہ جاری مظاہرہ کے مقام سے کچھ دوری پر وکیل امرجیت سنگھ نے ’خودکشی نوٹ‘ لکھ کر مبینہ طور پر زہر کھا لیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ کسان تحریک کے دوران مودی حکومت کے خلاف احتجاجاً خودکشی کا یہ دوسرا واقعہ ہے کیونکہ سَنت بابا رام سنگھ نے بھی کچھ دن پہلے دہلی بارڈر پر ہی اپنی زندگی ختم کر لی تھی۔

تازہ معاملہ ٹیکری بارڈر سے کچھ دور کا بتایا جا رہا ہے جہاں اتوار کی شب امرجیت سنگھ نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اپنی خودکشی کے لیے امرجیت نے پی ایم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اپنے خط میں وکیل امرجیت نے لکھا ہے کہ ’’میں کسان تحریک کی حمایت میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہوں۔‘‘ میڈیا ذرائع سے موصول خبروں کے مطابق وکیل نے خودکشی نوٹ لکھنے کے بعد کوئی زہریلی شئے کھا لی۔ اسے نیم مردہ حالت میں روہتک کے پی جی آئی ایم ایس پہنچایا گیا لیکن اس کی جان نہیں بچ سکی۔

پولس کو امرجیت سنگھ کے پاس سے جو خودکشی نوٹ ملا ہے، اس میں پی ایم مودی کا نام لکھا گیا ہے۔ اس خودکشی نوٹ کا کچھ حصہ ٹائپ کیا ہوا ہے اور کچھ قلم سے لکھا گیا ہے۔ پولس نے اس خط کو قبضے میں لے کر جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خودکشی کرنے والے وکیل نے مرکز کے تینوں زرعی قوانین کو کسان مخالف بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے تحریک کی حمایت میں قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے مزید لکھا ہے کہ ’’پی ایم کچھ لوگوں کے ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ تینوں زرعی قوانین کسانوں کے ساتھ ساتھ مزدور اور عام آدمی کی زندگی تباہ کر دیں گے۔ کسان، مزدور اور عوام کی روزی روٹی حکومت چھیننے میں لگی ہوئی ہے۔

ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ مہلوک وکیل نے پی ایم مودی کے نام یہ خط پہلے سے ہی ٹائپ کر رکھا تھا اور ساتھ لے کر مظاہرہ کے لیے ٹیکری بارڈر پہنچا تھا۔ حالانکہ اس نوٹ میں جو حصہ ہاتھ سے لکھا گیا ہے اس میں عدلیہ سے عوام کا بھروسہ اٹھ جانے کا تذکرہ ہے۔ بہر حال پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ امرجیت سنگھ فاجلکا کے جلال آباد بار ایسو سی ایشن کے رکن تھے جو کسان تحریک کے دوران نیا گاوں چوک کے پاس مظاہرہ میں شامل تھے۔ پولس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 16 دسمبر کو سِنگھو بارڈر پر کسانوں کے مظاہرہ میں سَنت بابا رام سنگھ نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا تھا۔ وہ کئی دنوں سے بارڈر پر کسانوں کی تحریک میں پیش پیش نظر آ رہے تھے۔ وہ کسانوں کی تکلیف دیکھ کر غم میں ڈوبے ہوئے تھے، اور بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں میں کمبل اور کھانا تقسیم کرتے ہوئے کئی بار دیکھے گئے۔ لیکن 16 دسمبر کے روز ان پر کسانوں کا غم اور مودی حکومت کا ظلم اس قدر حاوی ہو گیا کہ ایک خودکشی نوٹ لکھ کر خود کو گولی مار لی۔ لوگ انھیں اٹھا کر بھاگے بھاگے قریبی اسپتال پہنچے لیکن ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔

سَنت بابا رام سنگھ نے اپنے خودکشی نوٹ میں لکھا تھا کہ ’’کسانوں کی تکلیف دیکھی ہے۔ اپنے حق کے لیے سڑکوں پر انھیں دیکھ کر مجھے دکھ ہوا ہے۔ حکومت انھیں انصاف نہیں دے رہی ہے، جو کہ ظلم ہے۔ جو ظلم کرتا ہے وہ ’پاپی‘ (گنہگار) ہے۔ ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے۔ کسی نے کسانوں کے حق کے لیے تو کسی نے ظلم کے خلاف کچھ کیا ہے۔ کسی نے ایوارڈ واپس کر کے اپنا غصہ ظاہر کیا ہے۔ کسانوں کے حق کے لیے، سرکاری ظلم کے غصے کے درمیان ’سیوادار‘ خودکشی کرتا ہے۔ یہ ظلم کے خلاف آواز ہے۔ واہے گرو جی کا خالصا، واہے گروجی کی فتح۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Dec 2020, 4:10 PM