مدھیہ پردیش کے کسانوں کو وقت پر قیمت، ادائیگی اور احترام چاہیے: جیتو پٹواری

کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کسان وزیر اعلیٰ کے پوسٹر میں تو مسکرا سکتا ہے، لیکن کھیت میں کھڑا کسان آج بھی قرض، زرعی لاگت اور سرکاری دھوکے سے پریشان ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مدھیہ پردیش میں گیہوں کی خریداری جاری ہے۔ ریاست میں اب تک 103 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ گیہوں کی خریداری ہو چکی ہے۔ کانگریس لیڈر جیتو پٹواری کا اس کے متعلق ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے صوبائی صدر جیتو پٹواری نے کسانوں کو وقت پر قیمت، ادائیگی اور احترام دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پوسٹر اور تشہیر سے کسان خوشحال نہیں ہوتا، کھیت میں پسینہ بہانے والے کسان کو وقت پر قیمت، ادائیگی اور احترام چاہیے۔ وزیر اعلیٰ 103 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی خریداری کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں لیکن کئی سوالات موجود ہیں۔ بی جے پی نے الیکشن میں کسانوں سے 2700 روپے فی کوئنٹل گندم خریدنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج بھی کسان کو صرف 2600 روپے مل رہے ہیں۔ یعنی وعدے سے 100 روپے کم مل رہے ہیں۔

کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے مزید کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں کسانوں سے خریداری کی گئی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ خریداری تاخیر سے شروع ہوئی، جس کی وجہ سے کسان منڈیوں میں ایم ایس پی سے کم قیمت پر گیہوں فروخت کرنے پر مجبور ہوئے۔ کئی مقامات پر تاجروں نے کسانوں سے 2000 سے 2200 روپے فی کوئنٹل تک گیہوں خریدی جبکہ ایم ایس پی 2600 روپے تھا۔ کسانوں کو فی کوئنٹل 400 سے 600 روپے تک کا نقصان اٹھانا پڑا۔ کیا ریاستی حکومت یہ بھی بتائے گی کہ کسانوں کو ادائیگی میں تاخیر، رجسٹریشن کے مسائل اور خریداری مراکز کی بدنظمی سے کتنی پریشانی ہوئی؟


کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے کہا کہ کسان ڈیزل، کھاد، بیج اور بجلی کی بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان ہے۔ ایم ایس پی حقیقی لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ مارکیٹ کی اس سچائی کو حکومت کب تسلیم کرے گی؟

جیتو پٹواری نے حکومت سے کہا کہ ایم ایس پی پر قانونی ضمانت ہونی چاہیے، کسانوں کی ادائیگی فوری کی جائے، 2700 روپے فی کوئنٹل کی ادائیگی ہو، خریداری کا عمل بروقت اور شفاف ہو اور خریداری کے اعداد و شمار منافع بخش قیمت فراہم کریں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کسان وزیر اعلیٰ کے پوسٹر میں تو مسکرا سکتا ہے، لیکن کھیت میں کھڑا کسان آج بھی قرض، زرعی لاگت اور سرکاری دھوکے سے پریشان ہے۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔