چھتیس گڑھ کے کسانوں کو مل رہا ’نیائے‘، ہر سال دھان خریداری کا ریکارڈ قائم کر رہی ریاست: وزیر اعلیٰ بگھیل

بلاس پور ضلع واقع تخت پور اسمبلی کے کھیری گاؤں میں ’بھینٹ ملاقات پروگرام‘ کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بگھیل نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں ہر سال دھان خریداری کا نیا ریکارڈ قائم ہو رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بھوپیش بگھیل، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

بھوپیش بگھیل، تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

چھتیس گڑھ ہر سال ایم ایس پی پر دھان خریداری میں نیا ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ اس بار اب تک 100 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ دھان کی خریداری کی جا چکی ہے۔ اسے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بدلتے حالات کا اشارہ بتایا ہے۔ بلاس پور ضلع واقع تخت پور اسمبلی کے کھیری گاؤں میں بھینٹ ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں ہر سال دھان خریداری کا نیا ریکارڈ بن رہا ہے۔ اس سال اب تک 100 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ دھان کی خریداری ہو چکی ہے۔ نئی ریاستی حکومت کی تشکیل کے بعد پہلے سال 84 لاکھ میٹرک ٹن، دوسرے سال 93 لاکھ میٹرک تن، تیسرے سال 97 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی خریداری کی گئی تھی۔ کسانوں کو تین دن میں ہی دھان کا پیسہ مل جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے گاؤں والوں سے راجیو گاندھی کسان نیائے یوجنا کے بارے میں بات چیت کی اور کہا کہ ابھی تین قسط دے چکے ہیں، تیسری قسط دیوالی کے وقت دی گئی اور چوتھی قسط 31 مارچ کو دیں گے۔

وزیر اعلیٰ بگھیل نے کہا کہ سب کی آمدنی میں اضافہ ہو، اس کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں۔ کسان مزدوروں کے بچوں کو بھی اچھی تعلیم ملے، اس کے لیے ہم نے سوامی آتمانند انگریزی میڈیم اسکول کھولے ہیں۔ اسکولوں کے معیار میں بہتری، آئی ٹی آئی سنٹرس کی بہتری کے لیے ہم نے بجٹ میں انتظام کیا ہے۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ سبھی کی معاشی ترقی ہونی چاہیے۔ عقیدت کے مراکز کی ترقی کے لیے بھی ہم نے کوششیں کی ہیں۔ رام وَن گمن پتھ، ہریلی تیہار، تیج تہوار پر تعطیل کا اعلان کیا۔ پھگڑی جیسے چھتیس گڑھ کے روایتی کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے پہلی بار چھتیس گڑھیا اولمپک کا انعقاد کیا گیا۔


وزیر اعلیٰ بگھیل نے کہا کہ چھتیس گڑھ پہلی ریاست ہے جہاں بے زمین مزدوروں کو سالانہ 7 ہزار روپے کی معاشی مدد دینے کے لیے ’راجیو گاندھی گرامین بھومی ہین کرشی مزدور نیائے یوجنا‘ شروع کی گئی ہے۔ چھتیس گڑھ پہلی ریاست ہے جہاں کودو-کٹکی اور راگی کی خریداری ایم ایس پی پر ہو رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔