کرنال کے منی سکریٹریٹ میں کسانوں کا مظاہرہ اب بھی جاری، کھٹر حکومت پر دباؤ!

کسان یونینوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اب حکومت سے تبھی بات کریں گے جب 28 اگست کو کرنال کے بستر ٹول پلازہ پر لاٹھی چارج کا حکم دینے والے ایس ڈی ایم آیوش سنہا کے خلاف معاملہ درج ہوگا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ہریانہ کے کرنال میں منی سکریٹریٹ میں چل رہے کسان مظاہرہ کا آج چوتھا دن ہے۔ اس مظاہرہ کی وجہ سے ہریانہ کی کھٹر حکومت پر کسانوں کا مطالبہ ماننے کو لے کر لگاتار دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروسز کو بحال کر دیا ہے ہے جس کے بعد مظاہرہ کے مقام پر موجود کسانوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی تھوڑی راحت ملی ہے۔ شہر کے ایک تاجر گلزار سنگھ نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروسز کو بحال کر دیا ہے اور اب ہمیں امید ہے کہ کسانوں کے مطالبات پر بھی غور کیا جائے گا۔ دھرنے کے مقام پر موجود ایک کسان جے نال سنگھ نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بحالی کافی نہیں ہے، ہم یہاں افسر آیوش سنہا کو برخاست کرنے اور واقعہ میں مارے گئے کسان کو معاوضہ دینے کے اپنے مطالبہ کے لیے لڑ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کسان یونین لیڈر گرونام سنگھ چڈھونی نے جمعرات کو کہا تھا کہ انٹرنیٹ سروسز بند کرنا ہماری اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔ ہر کسی کو بولنے اور اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق ہے۔ لیکن انتظامیہ ہمارے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ دراصل کسانوں کی اشتعال انگیز تقریروں کو روکنے کے لیے 7 ستمبر کو کسان مہاپنچایت سے پہلے کرنال کے آس پاس کے پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ سہولیات کو معطل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ اب سبھی اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز بحال کر دیے گئے ہیں۔


اس درمیان کسان یونینوں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں مستقبل کی کارروائی کو آخری شکل دینے کے لیے ہفتہ کے روز یعنی 11 ستمبر کو پھر سے میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسان یونینوں نے واضح طور سے کہا ہے کہ وہ اب حکومت سے تبھی بات کریں گے جب 28 اگست کو کرنال کے بستر ٹول پلازہ پر لاٹھی چارج کا حکم دیتے ہوئے ایک وائرل ویڈیو میں متنازعہ بیان دینے والے ایس ڈی ایم آیوش سنہا کے خلاف معاملہ درج ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔