سپریم کورٹ کافیصلہ: کسانوں نے جلائیں گزٹ کی کاپیاں اور وکیل نے کی ’چائے پر چرچا‘

وکلاء کی رائے میں اس سارے معاملہ پر حکومت کو فیصلہ لینا تھا لیکن وہ نہیں لے پائی جس کی وجہ سے مرکزی حکومت عام لوگوں میں اپنی ساکھ کھوچکی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: لوہڑی کے موقع پر احتجاج کر رہے کسانوں نے اس سرکاری گزٹ کی کاپیاں نذر آتش کریں جس میں حکومت نے زرعی قوانین پر سپریم کورٹ کے ذریعہ بنائی گئی کمیٹی کی تفصیلات درج کی تھیں۔ واضح رہے احتجاج کر رہے کسانوں نے صاف الفاظ میں اس کمیٹی کے سامنے اپنی بات رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب ہریانہ میں حصار بار ایسوسی ایشن کے ممبران نے سپریم کورٹ کے احکامات پر تفصیل سے غور کرنے کے بعد کہا کہ کسان تحریک پر سپریم کورٹ کے آئے احکامات سے کسانوں کا بھلا نہیں ہونے والا۔

ضلع بار ایسو سی ایسشن کے سابق پرنسپل ایڈووکیٹ جے ایس ملہی، بارممبر ایڈووکیٹ دلیپ جاکھڑ، ایڈووکیٹ پی سی متل، ایڈووکیٹ پردیپ شیورانا ایڈووکیٹ سیٹھی بشنوئی، منوج سینی ہری سنگھ یادو، راجیش چودھری، بجرنگ اندل، امیت سہاگ اور ایڈووکیٹ وپن سندھو وغیرہ نے یہاں ’چائے پرچرچا‘ میں سپریم کورٹ کے منگل کے حکم پر غوروخوض کیا۔ سینئر وکیل جے ایس ملہی نے کہا کہ کسانوں کے مطالبات مرکزی حکومت سے تھے جبکہ سپریم کورٹ کو ثالثی کے لئے درمیان میں آن پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، ان ممبران کی رائے پہلے سے زرعی قوانین کی حمایت میں تھی جس سے کسانوں کا اس کمیٹی پر یقین کرنا مشکل ہے۔

ایڈووکیٹ ملہی نے کہا کہ کسانوں کے مطالبات مرکزی حکومت سے تھے جبکہ ملک کے وزیرزراعت تومر نے کسان تنظیموں کی میٹنگ میں ہی کسانوں کو سپریم کورٹ جانے کی بات کہہ دی تھی اور اسی روز سے کسانوں کے دل میں شک کے بادل چھاگئے تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت عام لوگوں میں اپنی ساکھ کھوچکی ہے۔

وکیلوں کا کہناتھا کہ ملک کی اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت پر زرعی قوانین کی واپسی کا دباوبنانے میں ناکام رہی ہیں۔ گفتگو میں اس بات پر تشویش کا اظہارکیا گیا کہ کسان تحریک میں اب 70 سے زیادہ کسان شہید ہوچکے ہیں اور حکومت نے کسی بھی ہمدردی کا اظہارنہیں کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Jan 2021, 8:11 AM
next