سر اٹھا کر گھر واپس جا رہے ہیں کسان، حکومت کے لیے سبق... سید خرم رضا

میں نے اس تحریک میں نئے ٹینٹ لگتے اور اسپتال بنتے دیکھے ہیں اور آج ان سب کو اکھاڑ کر جانے کی تیاری ہو رہی ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ کسان اپنے گھر سر اٹھا کر واپس جا رہے ہیں۔

کسان تحریک / تصویر یو این آئی
کسان تحریک / تصویر یو این آئی
user

سید خرم رضا

سنگھو اور غازی پور بارڈر پر ایک سال کے دوران کئی مرتبہ جانا ہوا اور کسانوں کی اس منفرد تحریک کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ شروع میں لگا کہ شائد حکومت کی حکمت عملی ان کسانوں کو تھکا دینے کی ہے اور حکومت کو اس میں کامیابی بھی مل جائے گی، کیونکہ جہاں ایک طرف حکومت بہت طاقتور ہوتی ہے وہیں ایک بڑا سوال یہ تھا کہ کیا کسان موسم کی شدت برداشت کر پائیں گے، لیکن کسانوں نے ان تمام خدشات کو شکست دی۔

جب پہلی مرتبہ سنگھو بارڈر پر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گیا تو خبر کے کئی پہلو نظر آئے۔ ایک جانب جہاں کسانوں میں بہت جوش تھا تو دوسری جانب ان کی خدمت کا جذبہ دیکھ کر لگا کہ ان کو جتنا سلام کیا جائے کم ہے۔ ایک جانب جہاں طرح طرح کے کھانے نظر آ رہے تھے وہیں کورونا وبا کی وجہ سے طبی سہولیات فراہم کرنے کا زبردست انتظام بھی تھا۔ نو جوان ڈاکٹروں کو جس انداز میں خدمت کر تے دیکھا اس کو دیکھ کر ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم تھی۔ خواتین اور بچوں میں جو جذبہ دیکھا تو اس نے میرے اس خیاں کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ کسان تھک جائیں گے اور حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی۔ آج جب کسان اپنے مطالبات کو منوانے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں تو مجھے اپنی غلطی کا احساس بہت شدت سے ہو رہا ہے۔


سنگھو بارڈر کے بعد جب غازی پور بارڈر گیا تو وہاں کے مقابلہ یہاں تھوڑا پھیکا لگا وہ الگ بات ہے کہ خدمت کرنے والے لوگوں میں یہاں بھی جو لوگ تھے ان کا تعلق پنجاب صوبہ سے تھا۔ سکھ قوم جس کے لئے سگریٹ کا دھواں برداشت کرنا بہت مشکل ہے لیکن غازی پور میں کمال کی یکجہتی دیکھنے کو ملی، کیونکہ یہاں سکھوں کو حقہ اور سگریٹ پینے والوں سے کوئی ناگواری نظر نہیں آ رہی تھی بلکہ کئی مرتبہ تو ایک ہی ٹریکٹر پر سگریٹ پینے والے بیٹھے نظر آئے تو ان کے ساتھ پگڑی پہنے سکھ بھی نظر آئے۔ حالانکہ اس کے بعد دھیرے دھیرے غازی پور بارڈر نے مرکزیت اختیار کر لی۔ لیکن سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر جوش اور رونق میں کوئی کمی نہیں آئی۔

کسانوں کی یہ تحریک جو تین نئے زرعی قوانین کی وجہ سے وجود میں آئی تھی اس نے کئی باب دیکھے اور لکھے۔ 26 جنوری کو جب ٹریکٹر ریلی نکالی گئی تو میں نے اس سے قبل اتنے سارے ٹریکٹروں کو ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اتنی لمبی کوئی ریلی دیکھی تھی۔ میں بھی ٹریکٹر پر ہچکولے کھاتا ہوا ویڈیو بناتا رہا اور ’قومی آواز‘ کے قارئین کو ہر لمحہ کی رپورٹ دیتا رہا۔ آفس کے پاس ہنگامہ دیکھا، لوگوں میں جوش دیکھا، پھر خبر آئی کہ کچھ شر پسند عناصر لال قلعہ پر چڑھ گئے ہیں اور نشان صاحب کو لہرا دیا ہے۔ ایک دم سے جھٹکا لگا اور یہ خیال آیا کہ تحریک کو زبر دست نقصان ہوگیا ہے اور اب یہ تحریک ختم ہو جائے گی، لیکن چند دنوں کی خاموشی کے بعد پھر اس تحریک میں دوبارہ جوش پیدا ہوا۔ ایک دن ایسا آیا جب اتر پردیش میں اس تحریک کی پہچان بن چکے راکیش ٹکیت کے آنسو چھلک پڑے اور لگا کہ اس رات کو تحریک ختم ہو جائے گی، لیکن ٹکیت کے ان آنسوؤں نے اس تحریک کو زندگی بخشی، جس نے حکومت کو پوری طرح ہلا دیا۔


اس کے بعد ضمنی انتخابات کے نتائج نے حکومت کو اس تئیں سوچنے پر مجبور کیا کہ کسان تحریک اس کے لئے کہیں انتخابات ہارنے کی وجہ نہ بن جائے۔ حکومت نے ضمنی انتخابات کے بعد جس انداز سے پٹرول-ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کیا، اس نے یہ اشارہ دینا شروع کر دیا تھا کہ حکومت اب کسانوں کے مطالبات مان لے گی۔

19 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا اور خطاب سے پہلے کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ کیا کہنے والے ہیں، لیکن انہوں نے کسانوں سے معافی مانگی اور تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا۔ اس خطاب میں جب انہوں نے کہا کہ ان کی تپسیا میں کوئی کمی رہ گئی جو کسانوں نے ان کی یہ بات نہیں مانی۔ اس بیان کے بعد کسانوں کو ناگواری تو ضرور ہوئی، لیکن انہوں نے برداشت کیا اور اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے مزید سخت ہو گئے۔


ملک نے گزشتہ دو سالوں میں دو تحریکیں دیکھیں اور دونوں میں ایک خاص بات یہ تھی کہ دونوں تحریکوں میں مکمل عدم تشدد کا مظاہرہ کیا گیا اور آئین کا دامن کسی وقت نہیں چھوڑا۔ ان مظاہرین کو اپنے مقصد سے ہٹانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کیں گئیں لیکن مظاہرین چاہے شاہین باغ کے ہوں ی چاہے کسان ہوں، انہوں نے اپنے مقصد اور عدم تشدد کے دامن کو ہرگز نہیں چھوڑا۔

میں نے اس تحریک میں نئے ٹینٹ لگتے اور اسپتال بنتے دیکھے ہیں اور آج ان سب کو اکھاڑ کر جانے کی تیاری ہو رہی ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ کسان اپنے گھر سر اٹھا کر واپس جا رہے ہیں۔ ہر حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ عوام اور عوامی تحریک میں بڑی طاقت ہوتی ہے اس لئے عوام کی بات جتنی جلدی مان لی جائے اتنا نقصان کم ہوتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔