کسان احتجاج: ’پارلیمنٹ جانے سے روکا گیا تو دوسرے طریقے اپنائیں گے‘

’اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش سمیتی‘ کے بینر تلے جمع کسان مکمل قرض معافی، فصلوں کی لاگت کا ڈیڑھ گنا معاوضہ اور ایم ایس سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو پوری طرح سے نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تصویر قومی آواز / وپن
تصویر قومی آواز / وپن
user

قومی آوازبیورو

29 Nov 2018, 3:11 PM
’پارلیمنٹ جانے سے روکا گیا تو دوسرے طریقے اپنائیں گے‘

دہلی میں ملک بھر سے پہنچے کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ کئی کسان تنظیموں کے بینر تلے پہنے کسانوں نے دھمکی کی ہے کہ اگر پارلیمنٹ جانے سے انہیں روکا گیا تو دو مظاہرے کے دوسرے طریقے اپنائیں گے۔

کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لئے پہنچے تمل ناڈو کے کسانوں نے کہا کہ اگر انہیں جمعہ کو پارلیمنٹ نہیں جانے دیا گیا تو وہ برہنہ ہو کر مارچ کریں گے۔ کسانوں کا گروپ خودکشی کر چکے اپنی ساتھی کسانوں کی کھوپڑیاں لے کر احتجاج میں شامل ہونے کے لئے جمعرات کو دہلی پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو کے کسان گزشتہ سال بھی اسی طرح سے مظاہرہ کر چکے ہیں۔

29 Nov 2018, 2:09 PM

قرض معافی جیسے کئی مطالبات کو لے کر ہزاروں کسانوں دہلی پہنچے

قرض معافی جیسے کئی مطالبات کو لے کر ہزاروں کی تعداد میں کسان دہلی پہنچ گئے ہیں، دہلی کے رام لیلا میدان میں کسانوں کا جمع ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں سے کسان مظاہروں میں شامل ہونے کے لئے دہلی پہنچ رہے ہیں، اپنے دو روزہ مظاہروں کے دوران کسان پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔

29 Nov 2018, 12:41 PM

ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے بے حال اور مودی حکومت سے پریشان کسان 29 نومبر کو دہلی میں جمع ہوئے ہیں۔ یہ کسان مودی حکومت کے خلاف دو دنوں تک دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور قرض معافی و فصل کی بہتر ایم ایس پی دینے کا مطالبہ کریں گے۔ دہلی پولس نے کسانوں کے اس دو روزہ احتجاجی مارچ کو دیکھتے ہوئے ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنتر منتر پر ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا جمع ہونا ممنوع ہے۔ ایسی حالت میں اگر کسانوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو انھیں رام لیلا میدان میں دھرنا و مظاہرہ کرنا ہوگا۔

29 اور 30 نومبر کو ہونے والے اس احتجاجی مظاہرہ میں چونکہ کثیر تعداد میں کسان شریک ہو رہے ہیں اس لیے دھیرے دھیرے سبھی کسان رام لیلا میدان کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں۔ ’اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش سمیتی‘ کے بینر تلے یہ سبھی کسان جمع ہوئے ہیں اور مکمل قرض معافی، فصلوں کی لاگت کا ڈیڑھ گنا معاوضہ اور ایم ایس سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو پوری طرح سے نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔