قوانین واپسی والے وزیر زراعت کے بیان پر کسان برہم، کہا- ’دوبارہ دہلی آنے میں دیر نہیں لگے گی‘

مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر کے زرعی قوانین کو واپس لانے والے بیان پر کسان برہم ہیں اور انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہلی سے واپس ضرور آئے ہیں لیکن انہیں واپس لوٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر کے زرعی قوانین کو واپس لانے والے بیان پر کسان برہم ہیں اور انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہلی سے واپس ضرور آئے ہیں لیکن انہیں واپس لوٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ نریندر تومر نے مہاراشٹر میں منعقدہ ایک تقریب سے کہا تھا کہ کہ ملک کی آزادی کے بعد ایک بڑا فیصلہ لیا گیا تھا اور ہم صرف ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں، حکومت دوبارہ آگے بڑھے گی۔ اس سے قبل کانگریس نے بھی وزیر زراعت کے اس بیان پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

وزیر زراعت تومر نے ناگپور، مہاراشٹر میں کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد کسانوں کو زیادہ منافع فراہم کرنے کے مقصد سے زرعی قوانین لائے گئے تھے۔ یہ ایک بہتر اصلاح تھی۔ ہم ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں، حکومت آگے بڑھے گی۔ زراعت میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔


اس پر کسان لیڈر جگتار سنگھ نے کہا کہ ہم دہلی سے چلے آئے ہیں لیکن ہمیں واپس لوتنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے کسان لیڈر آواز دیں گے تو دہلی ہو یا مہاراشٹر، لاکھوں کسان دوبارہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ ہم ان قوانین کو نافذ نہیں ہونے دیں گے جو کسانوں کے مفاد میں نہیں ہیں۔

ایک اور کسان لیڈر ہرجیت سنگھ نے کہا کہ پورا ملک بے دار ہو چکا ہے اور وزیر زراعت کا یہ بیان دینا درست نہیں ہے۔ کسان اپنے حقوق کے لیے لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

دریں اثنا، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے اپنے بیان پر وضاحت پیش کی ہے۔ تومر نے کہا، "میں نے کہا تھا کہ حکومت ہند نے بہتر قوانین بنائے تھے، ناگزیر وجوہات کی بنا پر ہم نے انہیں واپس لے لیا ہے اور حکومت ہند کسانوں کی بہتری کے لیے کام کرتی رہے گی۔" جب وزیر زراعت سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ صرف ایک قدم پیچھے ہٹایا گیا ہے اور حکومت نیا قانون لائے گی تو انہوں نے کہا کہ یہ انہوں نے نہیں کہا اور یہ جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔


وزیر زاعت کے بیان پر کانگریس نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مواصلات شعبہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے مہاراشٹر میں تینوں قوانین کو کسانوں کے مفاد میں بتایا اور کہا کہ انہیں واپس لایا جائے گا۔ اس سے پہلے سابق مرکزی وزیر کلراج مشرا اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج بھی ایسی ہی باتیں کہہ چکے ہیں، لیکن اب وزیر زراعت نے خود اس طرح کے بیانات دیے ہیں، اس سے واضح ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔