دو سے زیادہ بچوں والے کنبے ریاستی فلاحی منصوبوں کا فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے، وزیر اعلیٰ آسام کا اعلان

وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے حکومت آہستہ آہستہ ’آبادی پر کنٹرول‘ کی پالیسی نافذ کرے گی اور دو سے زیادہ بچوں والے خاندان ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ اٹھانے کے اہل نہیں رہیں گے

ہیمنت بسوا شرما
ہیمنت بسوا شرما
user

قومی آوازبیورو

گوہاٹی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ ان کی حکومت آہستہ آہستہ ’آبادی پر کنٹرول‘ کی پالیسی نافذ کرے گی اور دو سے زیادہ بچوں والے خاندان ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ اٹھانے کے اہل نہیں ہوں گے۔

ہیمنت نے کہا کہ آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت نے ریاستی حکومت کی چنندہ اسکیموں میں آبادی کنٹرول کے معیارات کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ یہ معیار تمام سرکاری منصوبوں پر نافذ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اسکولوں یا پردھان منتری آواس یوجنا میں دو بچوں والے معیارات کو نافذ نہیں کر سکتے لیکن اگر ہم سی ایم آواس یوجنا شروع کرتے ہیں تو اسے نافذکیا جا سکتا ہے۔‘‘


خیال رہے کہ گزشتہ ماہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی بسوا سرما نے سرکاری منصوبوں کے تحت فائدہ کا استعمال کرنے کے لئے دو بچوں کے معیار کی وکالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقلیتی برادری سے غریبی کم کرنے کے لئے آبادی میں کنٹرول کے کئے ایک ’مناسب خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی‘ اختیار کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آبادی زیادہ ہونے سے رہنے کی جگہ کم ہو جاتی ہے اور نتیجے کے طور پر زمین پر ناجائز قبضہ ہوتا ہے۔

ہیمنت بسوا سرما کے بیان پر اقلیتی برادری اور بدر الدین اجمل کی سیاسی جماعت اے آئی یو ڈی ایف نے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ پارٹی کے لیڈران کا کہنا تھا کہ ہیمنت بسوا کا مسلمانوں سے آبادی کم کرنے کے لئے کہنا مسئلہ کی اصل وجہ پر توجہ نہ دے کر ایک طبقہ کے خلاف نفرت پھیلانے والا ظاہر ہوتا ہے۔ اے آئی یو ڈی ایف کے لیڈران نے کہا تھا کہ آبادی بڑھنے کی وجہ غریبی ہے اور اگر اسمبلی میں اس حوالہ سے کوئی پالیسی لائی جاتی ہے تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔