فہیم انصاری کو 12 سال بعد بریلی جیل سے ملی آزادی، سنائی اپنی تکلیف دہ داستان

ممبئی دہشت گردانہ حملے میں ملزم فہیم انصاری کو 9 سال پہلے ہی اس معاملہ میں بری کر دیا گیا تھا لیکن انھیں افسوس ہے کہ ایک دوسرے معاملے میں ملزم بنا دیا گیا جس کی وجہ سے ایک طویل عرصہ جیل میں رہنا پڑا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

گزشتہ 6 نومبر کو فہیم انصاری نے آزادی کی سانس اس وقت لی جب تقریباً 12 سال بعد وہ اتر پردیش کی بریلی جیل سے باہر آئے اور پھر جمعرات کوممبئی میں موجود اپنی فیملی کے ساتھ کھانا کھایا۔ 49 سالہ فہیم انصاری نے اپنی آزادی کے بعد دو ایسی خواہشیں ظاہر کیں جو اب کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنی آزادی کے بعد میں دو لوگوں سے ملنا چاہتا تھا، لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں۔آزادی کے بعد مجھے ان سے نہ ملنے کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔‘‘

ممبئی دہشت گردانہ حملے میں ملزم بنائے گئے فہیم انصاری کو تو 9 سال پہلے ہی اس معاملہ میں بری کر دیا گیا تھا لیکن انھیں افسوس ہے کہ ایک دوسرے معاملے میں ملزم بنا دیا گیا جس کی وجہ سے ایک طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔ دراصل فہیم انصاری اپنے بھائی کی پرنٹنگ یونٹ میں بطور کیلی گرافر کام کرتے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ اس نے ممبئی کے نقشے تیار کیے تھے جس سے اجمل قصاب سمیت 11/26 کے دیگر دہشت گردوں کو مدد ملی تھی۔ مئی 2010 میں اسے 11/26 کیس سے بری کر دیا، لیکن فروری 2008 میں یو پی ایس ٹی ایف کے ذریعہ گرفتار کیے جانے کے سبب اسے جیل میں ہی رہنا پڑا۔ ایس ٹی ایف کا دعویٰ تھا کہ وہ رام پور میں سی آر پی ایف کیمپ پر ہوئے حملوں میں شامل تھا جس میں 7 جوانوں اور ایک عام شہری کی موت ہو گئی تھی۔

رام پور میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کے الزام میں فہیم انصاری ایسے پھنسے کہ ان کی آزادی محال ہو گئی۔ انصاری پر فرضی پاکستانی پاسپورٹ، فرضی ہندوستانی ڈرائیونگ لائسنس، ممبئی کے کچھ نقشے اور ایک پستول رکھنے کے الزام میں کیس درج کیا گیا تھا۔ رام پور کی ایک عدالت نے گزشتہ ہفتہ سماعت کے دوران انصاری کو فرضی دستاویز رکھنے کا قصوروار پایا، لیکن حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایسے میں اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی، لیکن 6 نومبر کو اسے آزاد کر دیا گیا کیونکہ وہ پہلے ہی جیل میں 11 سال گزار چکا تھا۔

آزاد ہوا میں سانس لینے کے بعد جب فہیم انصاری ممبئی پہنچے تو اپنے گھر والوں سے مل کر انھیں بے انتہا خوشی ہوئی۔ پھر فہیم انصاری جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے دفتر پہنچے جہاں لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جیل سے آزاد ہونے کے بعد میں 2 لوگوں سے ملنا چاہتا تھا۔ ان میں ایک وکیل شاہد اعظمی تھے جنھوں نے 11/26 کیس میں میرا دفاع کیا۔ دوسرے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے تھے جنھوں نے افسروں کو بتایا تھا کہ میں بے گناہ ہوں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں دہشت گردوں کی گولیوں کا شکار ہو گئے۔‘‘

فہیم انصاری نے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یو پی پولس نے مجھے لکھنؤ سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب میں دوبئی میں رہنے والے اپنے دوستوں کے لیے کچھ کپڑے خرید رہا تھا۔ ایک ہفتہ بعد میری گرفتاری رام پور سے دکھائی گئی۔ مجھے بالکل بھی نہیں معلوم تھا کہ مجھے گرفتار کیوں کیا گیا۔‘‘ فہیم نے بتایا کہ ’’11/26 حملے سے تقریباً 8 مہینے پہلے ہی میں جیل میں بند تھا۔ ایک دن مجھے اخبار پڑھنے کے لیے ملا جس میں لکھا تھا کہ میں 11/26 دہشت گردانہ حملوں میں شامل تھا۔ اس خبر نے مجھے توڑ کر رکھ دیا۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’لکھنؤ میں گرفتاری کے بعد مجھے ممبئی لایا گیا اور مہاراشٹر اے ٹی ایس کے حوالے کر دیا گیا۔ انھوں نے مجھے کلین چٹ دے دی تھی۔ یو پی ایس ٹی ایف نے 11/26 حملے سے کافی پہلے مجھے مہاراشٹر اے ٹی ایس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس وقت ہیمنت کرکرے اے ٹی ایس چیف تھے۔ انھوں نے یو پی پولس کو بتایا تھا کہ میرے خلاف کچھ نہیں ملا۔ اس کے بعد بھی مجھے آزاد نہیں کیا گیا۔‘‘