یوپی: سرکاری اسکولوں پر سنگھ کا قبضہ، ایف آئی آردرج

رابرٹس گنج کے اس کالج میں بھی سنگھ نے فرضی تقرری کرائی تھی!

وارانسی سے شیو داس اور سونبھدر سے اشونی سنگھ کی مشترکہ رپورٹ

سرکاری امداد سے چلنے والے اسکولوں اور کالجوں میں سنگھ اپنے لوگوں کی تقرری کر رہا ہے ، اس پر فرضی حکم نامے تیار کرنے اور غبن کرنے کے بھی الزامات ہیں ۔ معاملہ میں 11 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

بی ایچ یو (بنارس ہندو یونیورسٹی ) میں ناہل لوگوں کی تقرریوں کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں پڑا ہے کہ سرکاری امداد یافتہ اسکولوں اور کالجوں (سنسکرت مادھیمک ودیالیوں اور سنسکرت مہا ودیالیوں) میں فرضی دستیاویزات کے سہارے دو درجن سے زائد اساتذہ اور ملازمین کی تقرری کا معاملہ منظر عام پر آ یا ہے۔ اس معاملہ میں دو سابق صحافیوں سمیت ایک درجن افراد کے خلاف دھوکہ دہی کا معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ تمام افراد پر جعلسازی کرکے حکم نامہ تیار کر نے اور سرکاری پیسہ کے غبن سمیت کئی الزمات عائد کئے گئے ہیں ۔ جن لوگوں کو ملزمین بنایا گیا ہے ان میں سونبھدر کے ضلع اسکول انسپکٹر کے دفتر میں تعینات اسٹینو گرافر اور اکاؤنٹینٹ سمیت رابرٹس گنج سنسکرت مادھیمک ودیالیہ اور راشٹریہ سنسکرت مادھیمک ودیالیہ ترواں کے کل 8 اسسٹنٹ ٹیچروں کے نام بھی شامل ہیں۔

رابرٹس گنج کوتوالی سونبھدر میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کی کاپی

رابرٹس گنج کوتوالی سونبھدر میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کی کاپی

ایف آئی آر میں درج ناموں میں ہندو یووا واہنی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ اور ایک خاص برادری سے وابستہ لوگوں کے رشتہ داروں کے نام بھی شامل ہیں۔ دستیاب دستاویزات اور الزامات پر یقین کریں تو ان فرضی تقرریوں کے پیچھے آر ایس ایس کے کاشی پروونس اکائی کے ایک اثر و رسوخ رکھنے والے کارکن کا ہاتھ ہے،جنہوں نے خود فرضی طریقے سے رابرٹس گنج میں واقع رابرٹس گنج سنسکرت مہاودیالیہ میں پی آر اوکے عہدے پر تقرری حاصل کی ہے۔

سونبھدر کی رابرٹس گنج کوتوالی میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کی کاپی

سونبھدر کی رابرٹس گنج کوتوالی میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کی کاپی

سونبھدر کی رابرٹس گنج کوتوالی میں درج ایف آئی آر کے مطابق ضلع اسکول انسپکٹر راج شیکھر نے 30 نومبر کو کوتوالی انچارج کو خط تحریر کیا۔ اس میں انہوں نے اس وقت کے ضلع اسکول انسپکٹر پربھو رام چوہان (حال میں لکچرر، ضلع تعلیمی اور تربیتی ادارہ، اوریا) ، اسٹینو گرافر اتل شریواستوا، اکاؤنٹینٹ اشوک کمار، رابرٹس گنج سنسکرت مادھیمک مہاودیالیہ کے منیجر اور راشٹریہ سنسکرت مہاودیالیہ تراواں سونبھدر کے منیجر پر غیر قانونی طریقہ سے کلرک اور اساتذہ سے ساز بازکر کے فرضی حکم نامے تیار کرنے اور اس کی بنیاد پر تنخواہ حاصل کرنے کا الزام لگایا ۔ ساتھ ہی انہوں نے ایف آئی آر درج کرانے کی تحریر دی۔

تحریر میں صاف لکھا ہے کہ رابرٹس گنج سنسکرت مہاودیالیہ میں اسسٹنٹ کلرک منوج چترویدی، اسسٹنٹ ٹیچر منٹی مشرا، وجیندر دویدی، ایم چترویدی اور راشٹریہ سنسکرت مہاودیالیہ تراواں میں مقرر اسسٹنٹ ٹیچرشیش ناتھ تیواری، شیام سندر سنگھ، کوشلیندر پانڈے، انکش شریواستو کی غیر قانونی تقرری کی گئی ہے۔ ان تعلیمی اداروں کے منیجروں نے گزشتہ 17 فروری کو غیر قانونی طور پر مقرر کلرک اور اسسٹنٹ اساتذہ کو تنخواہ کی ادائیگی کے لئے ضلع اسکول انسپکٹر کو خط تحریر کیا۔

اسی سلسلہ میں سابق ضلع اسکول انسپکٹر پربھو رام چوہان نے گزشتہ 17 مارچ کو اتر پردیش حکومت کے جوائنٹ سکریٹری کو رپورٹ بھیجی جس کا حوالہ نمبر دونوں دفاتر کے روانگی رجسٹر میں درج نہیں ہے۔ ضلع اسکول انسپکٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ ان لوگوں نےدھوکہ دہی کے ارادے سے سازشاً حکم نامے بنائے اور سرکاری پیسہ کو تنخواہ کے طور پر ادا کر کے غبن کیا۔

ضلع اسکول انسپکٹر کی اس تحریر پر رابرٹس گنج کوتوالی پولس نے آئی پی سی کی دفعہ 419 (جعلسازی اور دھوکہ دہی)، 420 (دھوکہ دہی)، 468 (جعلی دستاویز بنا کر دھوکہ دہی ) اور 471 (جعلی دستاویزات کے سہارے دھوکہ دہی) کے تحت 12 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ساتھ ہی پولس نے اس معاملہ کی جانچ دروغہ راج نارائن یادو کو سونپ دی ہے۔

ہریش چندر ترپاٹھی، آلوک چترویدی

ہریش چندر ترپاٹھی، آلوک چترویدی

ذرائع کے مطابق معاملہ کے ملزم اسسٹنٹ کلرک منوج چترویدی ، ہندو یوا واہنی کے رکن اور بی جے پی کارکن آلوک چترویدی کا بھائی ہے۔ جبکہ اسسٹنٹ ٹیچر کوشلیندر اور منوج چتر ویدی سابق صحافی ہیں۔ کوشلیندر دینک جاگرن ، ہندوستان اور امر اجالا کے سونبھدر بیورو میں کام کر چکا ہے جبکہ منوج چترویدی سونبھدر میں چینل ’نیوز 24‘ سے وابستہ تھا ۔ملزم اسسٹنٹ ٹیچر منٹی مشرا عرف منٹی پانڈے ہندو یوا واہنی کے مبینہ قائم مقام ضلع صدر اوپیندر تیواری کی بیوی ہے۔ وہیں ملزم اسسٹنٹ ٹیچر سواتی دیپکا شریواستو اور انکش شریواستو ضلع اسکول انسپکٹر کے دفتر میں تعینات اسٹینو گرافر اتل شریواستو کی بالترتیب بیوی اور سالا ہے۔

ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق ان غیر آئینی تقرریوں میں آر ایس ایس کے کاشی پروونس کے اثر و رسوخ رکھنے والے کارکن اور رابرٹس گنج سنسکرت مہا ودیالیہ میں لیکچرر ہریش چندر تریاٹھی عرف ہریش جی کا ہاتھ ہے۔ اس تعلق سے جب ہریش چندر تریاٹھی کے موبائل پر رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جانچ ہوگی تو سب کچھ پتہ چل جائے گا۔ انہوں موبائل بھی ملزم اسسٹنٹ ٹیچر کوشلیندر پانڈے کو تھما دیا۔ کوشلیندر پانڈے نے اس معاملہ میں خود کو میڈیا اہلکار بتاتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ کو بیان نہیں دیا جاتا اور فون کر کے ہریش چندر کو پریشان نہ کریں۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہیہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔

سب سے زیادہ مقبول