منی پور: انتہا پسند گروپ کی دھمکی ’بی جے پی کو ووٹ دو ورنہ تشدد کے لئے تیار رہو‘

منی پور میں عام انتخابات سے پہلے ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ بی جے پی کے حق میں انتہا پسند تنظیمیں لوگوں کو دھمکیاں دے رہی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی 
وزیر اعظم نریندر مودی
user

قومی آوازبیورو

عام انتخابات سے قبل منی پور کے گاؤں پردھانوں کو کوکی نیشنل آرمی کی جانب سے بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کے لئے دھمکی مل رہی ہے۔ ایک نیوز ویب سائٹ کے مطابق کوکی نیشنل آرمی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو 90 فیصد ووٹ ملنا چاہیے، نہیں تو وہ لوگوں کو اس کی سزا دیں گے۔

دوسری جانب خبریں یہ بھی ہیں کہ وزیر اعظم کی ریلی سے جو لوگ واپس جا رہے تھے ان کو ریلی میں روکنے کے لئے پولس کی طاقت کا استعمال کیا گیا اور ان کو زبردستی رکنے پر مجبور کیا گیا۔ اس زبردستی کی چو طرفہ مذمت ہو رہی ہے۔

کوکی نیشنل آرمی کے کمانڈر تھانگ بوئی ہاؤ کپ نے ڈی منتفئی اور موریح گاؤں میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا تھا جس میں گاؤں کے پردھان بھی موجود تھے۔ اس میں منی پور باہری سیٹ پر بی جے پی کے امیدوار ایچ ایس بینجامن میٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ضرورت پڑے گی تو وہ تشدد کا بھی سہارا لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگوں کو ان کا حکم ماننا پڑے گا۔

کوکی نیشنل آرمی کے کمانڈر نے کہا کہ گروہ کے اندر متحرک خواتین کی کمی کے باوجود11اپریل کے لئے200 خواتین کا خصوصی دستہ پولنگ بوتھوں پر تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرد ہوں یا خواتین جو بھی حکم نہیں مانے گا اسے بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 90 فیصد ووٹوں کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ کوکی نیشنل آرگنائزیشن اور کوکی نیشنل آرمی کی تشکیل 1988میں ہوئی تھی۔ تھانگ کھولن ہاؤ کپ کی کمان میں کیڈر کا پہلا بیچ تیار کیا گیا تھا اور یہ گروپ خطرناک ہتھیاروں کو استعمال کرنا جانتا ہے اور آ ج اس کے کیڈر کی تعداد 600 ہے۔ اب کوکی نیشنل آرمی حفاظتی دستوں کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کرتا، اس تعلق سے وہ حکومت کو مطلع بھی کر چکا ہے۔