بابری مسجد انہدام معاملہ کی سماعت کرنے والے جج کی مدت کار میں توسیع

سپریم کورٹ نے جمعہ کو اتر پردیش کے چیف سکریٹری کی جانب سے عدالت کے حکم پر عمل درآمد کروانے کے معاملے میں پیش حلف نامے اور آفس میمو کا جائزہ لیا

بابری مسجد کی فائل تصویر
بابری مسجد کی فائل تصویر

یو این آئی

نئی دہلی: اجودھیا میں واقع بابری مسجد انہدام کے مقدمے کی سماعت کرنے والے مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کےاسپیشل جج ایس کے یادو کی مدت کار میں توسیع کر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو اتر پردیش کے چیف سکریٹری کی جانب سے عدالت کے حکم پر عمل درآمد کروانے کے معاملے میں پیش حلف نامے اور آفس میمو کا جائزہ لیا۔

اترپردیش حکومت کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ایشوریہ بھاٹی نے جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ کو مطلع کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی تعمیل ہو چکی ہے اور اسپیشل جج کی مدت کار میں بابری مسجد انہدام کے مقدمے میں فیصلہ سنائے جانے کی مدت تک توسیع کر دی گئی ہے۔

بنچ نے معاملے کا تصفیہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم مطمئن ہیں کہ ضروری اقدامات کیےگئے ہیں۔‘‘ عدالت عظمیٰ نے 23 اگست کو ریاستی حکومت سے کہا تھا کہ اجودھیا کے مقدمے کی سماعت کرنے والے اسپیشل جج کی طرف سے ارسال کردہ خط میں کی گئی درخواست پرغور کیا جائے۔ اترپردیش حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرکے مدت کار میں توسیع کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت میں کے دوران ایس کے یادو سے کہا تھا کہ وہ اپریل 2020 تک مقدمے کی سماعت پوری کر لیں۔ لکھنؤ کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، سابق وزیر اعلیٰ (مدھیہ پردیش) اوما بھارتی، سادھوی رتمبھرا، مہنت نرتیہ گوپال داس اور دیگر پر بابری مسجد کو منہدم کرنے کا مقدمہ چل رہا ہے۔

Published: 13 Sep 2019, 7:10 PM