اندور میں کہرام! ای وی چارجنگ پوائنٹ میں دھماکے سے پورا گھر جل کر راکھ، 6 لوگوں کی موت
گھر کے اندر بڑی تعداد میں گیس کی ٹینکاں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق 10 سے زائد گیس کی ٹینکیاں تھیں۔ دھماکے سے یہ بھی پھٹ گئیں۔ صبح 4:00 سے 4:30 بجے کے درمیان پولیس کے سامنے ہی 2-3 دھماکے ہوئے۔

مدھیہ پردیش کے اندور سے ایک دل دہلا دینے والے حادثے کی خبر سامنے آئی ہے۔ بدھ کی عالی الصبح یہاں ایک گھر میں بھیانک آگ لگ گئی جس کی وجہ سے پورا گھر جل کر راکھ ہوگیا۔ اس دردناک واقعہ میں 6 لوگوں کی جل کر موت ہوگئی جبکہ متعدد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ خبروں کے مطابق یہ حادثہ الیکٹرک وہیکل (ای وی) کے چارجنگ پوائنٹ میں دھماکے کی وجہ سے ہوا۔
اندور کے پولس کمشنر سنتوش کمار سنگھ نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر کے باہر ایک الیکٹرک گاڑی کو چارج کیا جا رہا تھا اور چارجنگ پوائنٹ پھٹ گیا۔ اس کے بعد گاڑی میں لگی آگ گھر تک پھیل گئی۔ گھر کے اندر 10 سے زیادہ گیس کی ٹینکاں بھی رکھی ہوئی تھیں، جن میں سے کچھ دھماکے کے ساتھ پھٹ گئیں۔ واقعے میں 6 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ 3 کو بچا لیا گیا ہے۔ یہ گھر منوج پگلیا کا تھا جو پالیمر کا کاروبار کرتا ہے۔ گھر میں کچھ آتش گیر کیمیکل بھی رکھا تھا۔
یہ واقعہ اندور کے تلک تھانہ علاقے میں چھوٹا راجواڑا کے قریب پریتی نگرکا ہے۔ اس حادثے میں مکان مالک منوج پگلیا سمیت 6 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ پولیس کمشنر کل دیر رات سے جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ کلکٹر سمیت اعلیٰ حکام صورتحال پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ فائر بریگیڈ کی 5 سے زائد گاڑیاں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ایس ڈی ای آر ایف کی ٹیمیں بھی ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پولیس کمشنر نے بتایا کہ یہ حادثہ بدھ (18 مارچ) کی صبح تقریباً 4 بجے پیش آیا۔ فائر ٹینڈرز کو جائے وقوعہ پر طلب کر کے امدادی کارروائی شروع کر دی گئی۔ ٹیم کے پہنچنے تک آگ تیزی سے پھیل چکی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہر ایک الیکٹرک گاڑی چارج ہو رہی تھی اور وہاں ہونے والے دھماکے سے آگ پورے گھر میں پھیل گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گھر میں الیکٹرانک تالے لگے ہوئے تھے۔ پاور کٹ کے بعد الیکٹرانک تالے کھولے نہیں جاسکے ہوں گے۔ گھر کے بیڈ روم وغیرہ میں بھی ایسے ہی لاکس ہوں گے جو نہیں کھلے ہوں گے۔ بیڈ رومز میں بھی اسی طرح کے تالے لگائے گئے ہوں گے جس سے گھر کے لوگ باہر نہیں نکل سکے ہوں گے۔
پولیس نے بتایا کہ گھر کے اندر بڑی تعداد میں گیس کے ٹینک رکھے گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق 10 سے زائد گیس کی ٹینکیاں تھیں۔ یہ بھی پھٹ گئیں۔ صبح 4:00 سے 4:30 بجے کے درمیان پولیس ٹیم کے سامنے ہی 2-3 دھماکے ہوئے۔ صورتحال سنگین تھی۔ پڑوسیوں کے گھروں کی اوپر کی منزلوں سے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔ دھواں اٹھتا رہا تاہم فائر ٹیم نے ہر ممکن کرکے لوگوں کو باہر نکالا۔ پہلے نکالے گئے 3 لوگوں کو بچالیا گیا لیکن بعد میں ریسکیو کئے گئے 6 دیگر لوگوں کی جان چلی گئی۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ باقی لوگ کمرے یا گھر کے دوسرے حصوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ریسکیو ٹیم کو ان تک پہنچنے کے لیے بہت مشقت کرنی پڑی۔ آگ بہت بھیانک تھی۔