اے پی: کورونا متاثر کی تدفین میں شرکت کے بعد سابق وزیر سمیت 150 لوگ کورانٹائن

صحت کے حکام کا دعوی ہے کہ ضروری ہدایات کے مطابق ہی جنازہ ان کے اہل خانہ کو سونپا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ محروم کے اہل خانہ کو جنازے سے متعلق احتیاطی ہدایات دی گئی تھیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

چنئی: تمل ناڈو کے رام ناتھ پورم ضلع کے كیزہاك كرائی میں کورونا کی وجہ مرنے والے 71 سالہ شخص کی تدفین میں شرکت کے بعد ریاست کے سابق وزیر اور 150 دیگر افراد کو ان کے گھروں میں کوارنٹائن میں رکھنا پڑا ہے۔

كیزہاك كرائی کے بزرگ 16 مارچ کو دبئی سے واپس آئے تھے اور ریاست کے دارالحکومت چنئی کے مناڈی میں ٹھہرے تھے۔ سانس لینے میں پریشانی ہونے کے بعد 2 اپریل کو انہیں اسٹینلی میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا تھا لیکن دو گھنٹے کے دوران ہی اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے اگلے ہی دن تین اپریل کو مرحوم کا جنازہ ایمبولینس سے ان کے آبائی گاؤں لایا گیا جہاں واقع پرانی جمعہ مسجد میں مذہبی عقیدے کے مطابق انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔


ریاست کے سابق وزیر اور رام ناتھ پورم کے موجودہ رکن اسمبلی ڈاکٹر ایم منیكانندن اور ان کے والد محروم کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے مل کر تعزیت کا اظہار کیا۔ تب تک محروم کی جانچ رپورٹ نہیں آئی تھی۔ محروم کی تدفین کے دو دن بعد ان کے خون اور گلے کے نمونوں کی جانچ رپورٹ سامنے آئی جس میں ان کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو ئی۔ اس کے بعد ایک نیا تنازعہ شروع ہو گیا۔

اس دوران محروم کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ انہیں نہ تو یہ بتایا گیا کہ وہ کورونا کے مشتبہ مریض تھے اور نہ ہی ان کے نمونے کو جانچ میں بھیجنے کے بارے میں انہیں بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ہی مذہبی روایت کے مطابق انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ وہیں صحت کے حکام کا دعوی ہے کہ ضروری ہدایات کے مطابق ہی جنازہ ان کے اہل خانہ کو سونپا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ محروم کے اہل خانہ سے جنازے سے متعلق احتیاطی ہدایات دی گئی تھیں۔


سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ کورونا انفیکشن سے مرنے والے شخص کی تدفین میں شامل سابق وزیر سمیت 151 لوگوں کی شناخت کی گئی ہے۔ ان تمام لوگوں کو ان کے گھروں میں کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 11 افراد خاندان کے رکن ہیں اوردیگر پانچ تدفین میں شامل ہونے والے ہیں۔ كیزہاك كرائی پولیس نے محروم کے دو بیٹوں پر مختلف دفعات کے تحت ایک کیس درج کیا ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ اپنے والد کے الگ وارڈ میں داخل ہونے کے باووجد مذہبی روایت کے مطابق انہیں سپرد خاک کر دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔