جموں و کشمیر: سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر سے ہٹایا گیا پی ایس اے، نظربندی ختم

فاروق عبداللہ کو حراست سے آزادی دیے جانے کی خبر نیشنل کانفرنس نے میڈیا کو دی۔ پارٹی نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ’’یہ کشمیر میں حقیقی سیاسی عمل کو بحال کرنے کی سمت اٹھایا گیا مناسب قدم ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اگست 2019 میں جب جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹایا گیا تھا تو ساتھ ہی ریاست کے کئی سابق وزرائے اعلیٰ اور سرکردہ لیڈروں کو نظر بند بھی کیا گیا تھا۔ بعد ازاں کئی لیڈروں پر پی ایس اے (پبلک سیفٹی ایکٹ) لگا کر انھیں قید کر دیا گیا تھا جن میں سے ایک سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر سے یہ ایکٹ ہٹا دیا گیا ہے۔ گویا کہ 7 مہینے کے بعد وہ کھلی فضا میں سانس لے سکیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ سمیت نیشنل کانفرنس کے کئی لیڈروں کو دفعہ 370 ہٹنے سے ٹھیک ایک دن پہلے یعنی 4 اگست 2019 کی رات کو نظر بند کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 17 ستمبر سے فاروق عبداللہ پی ایس اے کے تحت حراست میں تھے۔

فاروق عبداللہ کو حراست سے آزادی دیے جانے کی خبر نیشنل کانفرنس نے میڈیا کو دی۔ پارٹی نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ’’فاروق عبداللہ کو حراست سے رہا کیا جانا جموں و کشمیر میں حقیقی سیاسی عمل کو بحال کرنے کی سمت میں اٹھایا گیا مناسب قدم ہے۔‘‘

جموں کشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے بھی اپنے ٹویٹر ہینڈل پر فاروق عبداللہ کی نظر بندی ختم کیے جانے سے متعلق جاری کردہ حکمنامے کی کاپی پیش کی ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’حکومت نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نظر بندی کے خاتمے کے لئے احکامات جاری کئے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کو 17 ستمبر سے پی ایس اے کے تحت حراست میں رکھا گیا تھا۔ ان کی حراست تین تین مہینے بڑھانے کا حکم تین بار جاری ہوئے تھے۔ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کو الگ الگ مقامات پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ نیشنل کانفرنس امید ظاہر کی ہے کہ جس طرح فاروق عبداللہ کی نظربندی ختم ہوئی ہے، عمر عبداللہ اور دیگر لیڈروں کی نظربندی کے احکامات بھی جلد جاری کیے جائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ فاروق عبدالہ سمیت کئی لیڈروں کی رہائی کا معاملہ پارلیمنٹ میں کئی بار اٹھ چکا ہے۔ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت سے نظربند چل رہے لیڈروں کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ ھالانکہ حکومت نے گزشتہ دنوں کہہ دیا تھا کہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آ رہے ہیں اور سابق وزرائے اعلیٰ سمیت حراست میں لیے گئے تمام لیڈروں کو آزاد کیا جائے گا۔

next