شعلہ بیانی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے درمیان سبھی کی سوالیہ نظریں انتخابی کمیشن پر

اصل سوال یہ ہے کہ زہر آمیز انتخابی تشہیر کرنے والوں کے دلوں میں موجودہ انتخابی کمیشن، شیسن یا لنگدوہ جیسا خوف کیوں نہیں پیدا کر پا رہا۔ موجودہ کمیشن کے پاس بھی تو دفعہ 324 کا ہتھیار موجود ہے؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مرنال پانڈے

بھوپال سے لوک سبھا کے لیے نامزد امیدوار مبینہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کی اصل عمر کیا ہے؟ یہ سوال ان دنوں موضوعِ بحث ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ضمانت پر چھوٹی مالیگاؤں دھماکہ کی ملزمہ (جی نہیں مقدمہ خارج نہیں ہوا ہے، الزام واپس نہیں لیے گئے ہیں)، پرگیہ ٹھاکر نے اکھاڑے میں اترتے ہی لوک سبھا انتخاب کو ’دھرم یُدھ‘ کا نام دے دیا۔ اور اس کے بعد سے ان کی طرف سے نہایت غیر مذہبی، فرقہ پرستانہ ذہنیت سے بھرے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے۔ اپنے تازہ بیان کے مطابق وہ 1992 کے بابری مسجد انہدام میں (بھی) سرگرم طور پر شامل تھیں۔ اب ان کا یوم پیدائش کوئی 1988 بتا رہا ہے تو کوئی 1971۔ اگر پہلی تاریخ درست ہے تو 1992 میں وہ صرف چار برس کی بچی تھیں اور ان کے ایک پرتشدد جلوس میں شامل ہو کر کارسیوکوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کرنے کی بات سچ نہیں معلوم ہوتی۔ اور اگر دوسری تاریخ اور ان کا توڑ پھوڑ کا دعویٰ درست ہے تو وہ اس وقت 21 برس کی تھیں، اور اس لیے اس عوامی اعتراف کے بعد (اوما بھارتی، مرلی منوہر جوشی اور اڈوانی جی کی ہی طرح) ان پر بھی بابری مسجد انہدام مقدمہ کے تحت قانونی کارروائی شروع ہونی چاہیے۔

ایسے ماحول میں جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق پورے ملک میں نافذ ہے، اہم اور سرکردہ لیڈروں کے بیان اور بھی اشتعال انگیز اور حیران کرنے والے بنتے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ یوں ہی نہیں ہو رہا ہے۔ انتخاب کا تیسرا مرحلہ آتے آتے ملک میں قومی سیکورٹی کی آڑ لے کر اقلیتوں کے خلاف لگاتار ایک خوف اور اندیشہ کا ماحول گہرایا جا رہا ہے۔ ابھی ابھی گجرات کے ایک انتخابی جلسہ میں وزیر اعظم نے سری لنکا میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے دہشت گردی کی تنقید کرتے ہوئے ملک کی سیکورٹی کا مسئلہ اٹھا دیا۔ اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان پوری طرح سے باہری حملہ آور پڑوسی کو زبردست جواب دینے کی حالت میں ہے۔ اپنے پاس جو ایٹم بم ہیں، وہ ہم نے دیوالی پر پھوڑنے کے لیے نہیں رکھے ہیں۔ کئی بھکت ٹائپ سامعین اس بات پر تالی پیٹتے اور خوش ہوتے نظر آئے۔ لیکن یہ بے حد سنگین بات ہے اور اس دھمکی کی لہروں نے فوراً اس بین الاقوامی برادری کے بھی کان کھڑے کر دیئے ہیں جو نیوکلیائی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں یعنی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گہرا رہی تلخی سے نیوکلیائی جنگ کے بڑھتے امکانات کو لے کر بہت اندیشے میں ہیں۔ سیاسی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ وزیرا عظم کے اس بیان نے نیوکلیائی تخفیف اسلحہ کے حامی کی شکل میں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت پانے کی ہندوستان کی کوششوں کی جڑیں بھی کمزور کر دی ہے۔

حالات اس لیے بھی مزید غور طلب ہیں کہ اس بار انتخاب میں ریکارڈ تعداد میں داغی امیدوار میدان میں ہیں۔ خاص طور سے تیسرے مرحلہ کی ووٹنگ میں حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں۔ نیشنل الیکشن واچ اور ایسو سی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم کے اعداد و شمار کے مطابق الیکشن کے لیے داخل نامزدگی پرچوں میں دی گئی جانکاریوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ تیسرے مرحلہ کی ووٹنگ میں کروڑپتی امیدواروں کی تعداد بڑھی ہے۔ ساتھ ہی 21 فیصد (804) امیدوار مجرمانہ ریکارڈ رکھتے پائے گئے ہیں۔ ان میں خواتین کی تعداد صرف 9 فیصد (351) ہے۔ جب کہ اس عمل میں ایسے پرچہ نامزدگی شامل نہیں ہے جو ادھوری جانکاریوں والے تھے یا ان کی اسکین کاپی پڑھنے لائق نہیں تھی۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ظاہر ہوا کہ خاتون امیدوار اس مرحلہ میں بہت کم ہیں، جب کہ داغی امیدواروں میں کم از کم 29 مرد امیدوار خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں نامزد ہیں، اور 256 امیدواروں کے خلاف نفرت پھیلانے والی تقریر دینے کے الزام ہیں جن میں خواتین بھی پیچھے نہیں نظر آتیں۔

کافی مدت سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام مجرمانہ ریکارڈ والے امیدواروں کی نامزدگی خارج کرے۔ لیکن یہ کہہ کر بات رفع دفع کر دی جاتی ہے کہ اکثر سیاسی رنجش کے تحت کچھ لوگ جان بوجھ کر امیدواروں کے خلاف مقدمے درج کرا دیتے ہیں۔ اور اگر نامزدگی خارج کرنے والا نظام بن گیا تو رنجش کی وجہ سے مقدمات کی تعداد میں بھی سیلاب آ سکتا ہے۔ لیکن اتنی تعداد میں مشتبہ روش والے کروڑپتی لوگوں کے لگاتار انتخابی میدان میں اتارے جانے کی ہی وجہ سے ریاستوں میں بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کے پرخچے اڑائے جانے کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ قابل غور ہے کہ کئی معاملوں میں ملک کے کئی بڑے لیڈروں نے بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کو سرعام توڑا ہے۔ بنگال میں سبھی پارٹیاں کھل کر فرقہ پرستی پر مبنی بیان بازی کر رہی ہیں اور اس سے ہونے والی پرتشدد واردات تھم نہیں رہی ہیں۔ اتر پردیش میں مینکا گاندھی بھی سلطان پور کے اقلیتی طبقہ کو انتخابی ریلی میں دھمکی دے گئیں ہیں کہ انتخاب جیتنے جا رہی ہیں اور بعد میں ان کو پتہ چل ہی جائے گا کہ کس طبقہ نے ان کو ووٹ نہیں دیا، تب وہ طبقہ نتیجہ بھگتنے کو تیار رہیں۔ اب خبر ہے کہ تمل ناڈو میں 19 اپریل تک ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے 4690 معاملے درج کیے جا چکے ہیں جن میں سے 1450 معاملے اے آئی اے ڈی ایم کے اور 1694 معاملے ڈی ایم کے کے خلاف ہیں۔ چھوٹی پارٹیاں بھی پیچھے نہیں جن کے خلاف کل 1546 معاملے درج ہوئے ہیں۔

ایسے لمحات میں ملک کی نگاہیں الیکشن کمیشن کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتی ہیں کہ وہ فوری انصاف کرے اور حالات کو دھماکہ خیز ہونے سے بچائے۔ ساتھ ہی انتخابات کو صاف و شفاف بنائے، جس کے لیے اسے آئین کی دفعہ 324 کے تحت واضح اختیارات دیئے گئے ہیں۔ 14 اپریل کو جب انتخابی کمیشن پر کچھ لوگوں کے خلاف سختی نہ برتنے کا الزام عائد لگا کر معاملہ سپریم کورٹ لے جایا گیا تو کمیشن نے کہہ دیا کہ اس کے پاس محدود وقت کے لیے محدود اختیارات ہیں جن کے تحت وہ اس طرح کی وارداتوں میں ثبوت ہوتے ہوئے بھی قانونی ضابطہ اخلاق توڑنے والوں کو بہت چاہ کر بھی ایسی حرکتوں سے باز آنے کی سخت تنبیہ ہی دے سکتا ہے۔ یہ بھی کیا بات ہوئی بھلا؟ قانونی ماہرین کے مطابق یہ درست نہیں ہے کہ کمیشن کے پاس اختیار نہیں۔ آخر بہت نکتہ چینی ہونے پر اس نے چار ایک بڑے لیڈروں کے انتخابی اجلاس کچھ دنوں کے لیے رکوا تو دیئے تھے۔ اور الیکشن کے وقت میں کمیشن کی سخت ڈسپلنری کارروائیوں پر عدالت کبھی رخنہ انداز نہیں ہوا، اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ ایک معاملے (موہندر گل بنام چیف الیکشن کمشنر) میں تو سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں بھی چیف الیکشن کمشنر ہاتھ جوڑ کر بھگوان سے اپنا کام کاج نمٹانے کے لیے چمتکاری صلاح تو نہیں مانگ سکتا۔ دفعہ 324 کے تحت اسے جو نگرانی، کنٹرول اور ہدایات دینے کے حق دیئے گئے ہیں، وہ اتنے ہی مفصل اور لچیلے ہیں جتنے کہ قومی ایمرجنسی کے ضمن میں برسراقتدار حکومت کو دیئے گئے اختیارات۔ یہی نہیں، دفعہ 324 میں یہ بھی انتظام ہے کہ الیکشن کے دوران بغیر چیف الیکشن کمشنر کی صلاح کے انتخابی عمل سے جڑے کسی بھی مرکزی یا ریاستی سطح کے کمشنر کا تبادلہ نہیں ہو سکتا۔

درج بالا باتوں کے مدنظر اہم سوال یہ نہیں کہ الیکشن کمیشن کے پاس کتنے اور کس طرح کے قانونی اختیارات ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ان تمام اختیارات کا انتخابی ضابطہ اخلاق کو بری طرح توڑ کر آگ لگانے والوں کے خلاف فوری استعمال کرنے میں وہ لگاتار اتنا ہچکچاہٹ بھرا رخ کیوں دکھا رہا ہے؟ زہریلی انتخابی تشہیر کرنے والوں کے دلوں میں وہ شیسن یا لنگدوہ جیسا خوف کیوں نہیں پیدا کر پا رہا۔ ان کے پاس بھی تو اسی دفعہ 324 کا ہتھیار تھا؟

next