ہر سانس زہریلی: لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے دہلی کی آلودہ فضا، اجئے ماکن نے بی جے پی حکومت کو ٹھہرایا ذمہ دار
دہلی میں ہر سال سردیوں کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچنے لگی ہے، جس پر بارہا عدالتیں اور ماحولیاتی ادارے تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔

قومی راجدھانی دہلی میں فضائی آلودگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تازہ اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے دہلی کی ہوا کے معیار پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور اس کے لیے بی جے پی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انھوں نے حکومت سے دہلی کی ہوا کا معیار بہتر بنانے کے لیے عملی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’’سانس لینا بنیادی حق ہے، کوئی سہولت نہیں۔‘‘
اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، اس کے مطابق 13 مئی کو دہلی کے فضائی حالات سے متعلق 3 انتہائی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے سنگین بات سلفر ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ ایک مانیٹرنگ اسٹیشن پر سلفر ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 556 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جسے صحت کے لیے نہایت خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
اجئے ماکن نے بتایا کہ دہلی کے تمام 46 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔ سب سے زیادہ آلودہ اسٹیشن پر پی ایم 2.5 کی سطح ڈبلیو ایچ او کے معیار سے 11.8 گنا زیادہ درج کی گئی، جو دہلی کے شہریوں کے لیے سنگین صحت بحران کی علامت ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ موسم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مؤثر پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی میں فضائی آلودگی کے مسئلے پر بی جے پی حکومت سنجیدگی سے کام نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے عوام کی صحت مسلسل خطرے میں پڑ رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے یونیورسٹی آف شکاگو کی ایئر کوالٹی لائف انڈیکس (اے کیو ایل آئی) رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سطح کی آلودگی دہلی کے باشندوں کی اوسط عمر تقریباً 10 سال تک کم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا عوامی صحت کا بحران ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایم 2.5 اور سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسے آلودہ ذرات سانس، دل اور پھیپھڑوں سے متعلق بیماریوں کو تیزی سے بڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور پہلے سے بیمار افراد اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ دہلی میں ہر سال سردیوں کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچنے لگی ہے، جس پر بارہا عدالتیں اور ماحولیاتی ادارے تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
