’ایسے سانحہ میں بھی بی جے پی سیاسی مسابقت سے باز نہیں آتی‘، افسران کی معطلی کو تاریخی بتانے پر کانگریس نے دکھایا آئینہ

سندیپ دیکشت ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’دہلی حکومت نے آج ڈی سی ایم سی ڈی اور تعمیرات سے وابستہ کچھ افسران کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی فیصلہ رہا ہے، جو سابقہ کوئی بھی حکومت نہیں کر پائی۔‘‘

سندیپ دیکشت / یو این آئی
i

ستیہ نکیتن حادثہ معاملہ میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ایم سی ڈی کے ڈپٹی کمشنر سمیت 5 افسران کو معطل کر دیا ہے۔ اس کے بعد دہلی حکومت نے اپنی تعریف کرتے ہوئے اس فیصلہ کو تاریخی قرار دیا۔ اس پر کانگریس رہنما اور دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کے بیٹے سندیپ دیکشت کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے سانحہ کے وقت بھی بی جے پی سیاسی مسابقت سے باز نہیں آتی۔ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’2 روز قبل جو دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، اس کے سلسلے میں دہلی حکومت نے آج ڈی سی ایم سی ڈی اور تعمیرات سے وابستہ کچھ افسران کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی فیصلہ رہا ہے، جو سابقہ کوئی بھی حکومت نہیں کر پائی۔‘‘

سندیپ دیکشت اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے سانحہ کے وقت بھی بی جے پی سیاسی مسابقت سے باز نہیں آتی۔ چلو کسی پارٹی کی سوچ کا کیا کریں۔‘‘ بی جے پی کو آئینہ دکھاتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’’جھوٹ پیش کرتے کرتے یہ اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ بھول گئے کہ 2008 میں سیلم پور علاقہ میں ایسی ہی ایک ذاتی عمارت منہدم ہو گئی تھی تو شیلا جی کی قیادت والی کانگریس حکومت نے ایم سی ڈی کے ڈپٹی کمشنر، ایگزیکٹو انجینئر، اسسٹنٹ انجینئر اور جونیئر انجینئر سب کو معطل کر دیا تھا۔‘‘ اپنی پوسٹ کے آخر میں کانگریس لیڈر لکھتے ہیں کہ ’’خیر، جب دہلی کو ہی کسی کام کی فکر نہیں ہے تو لیڈران سے کیا امید کریں۔‘‘


دوسری جانب سپریم کورٹ نے ستیہ نکیتن حادثہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جمعرات (10 ستمبر) کو سماعت کی بات کہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کہ اس مسئلہ کو قومی سطح پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس احسان الدین امان اللہ کی صدارت والی بنچ کے سامنے معاملہ پیش کرتے ہوئے امیکس کیوری اجیت کمار سنہا نے بتایا کہ عدالت کے گزشتہ حکم کے مطابق دہلی میں غیر قانونی تعمیرات کے سلسلے میں سروے کا کام جاری ہے۔ اسی دوران ستیہ نکیتن میں یہ حادثہ پیش آیا ہے، جس میں اب تک 7 بچوں کی موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے ججوں کو یہ بھی بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو معاملے میں کچھ احکامات جاری کیے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔