دہلی وقف بورڈ کی پہل پر دارالافتاء کا قیام

دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اس موقع پر کہا کہ اس شعبہ کے بغیر دہلی وقف بورڈ ادھورا تھا اور آج الحمدللہ وقف بورڈ مکمل ہوگیا۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ نے آج ایک تاریخی شروعات کرتے ہوئے آفس کے شعبوں میں ایک نئے شعبہ کا اضافہ کیا ہے اور چیئرمین امانت اللہ خان کے الفاظ میں آج دہلی وقف بورڈ صحیح معنوں میں مکمل ہوگیا ہے۔ وقف بوڈ نے ایک ریزولیشن کے تحت دارالافتاء کا نیا شعبہ اپنے مرکزی دفتر دریا گنج میں قائم کیا ہے جس کی ذمہ داری دو معتبر عالم دین مفتی ذکاوت قاسمی اور مفتی طیب قاسمی کو دی گئی ہے۔

فصیل کے مطابق شعبہ دارالافتاء میں تمام مکتبہ فکر کے کل 5 علماء کرام شامل ہوں گے جس میں سے دو عالم دین مفتی ذکاوت قاسمی اور ان کے معاون مفتی طیب قاسمی نے کل دریا گنج آفس پہنچ کر شعبہ کی ذمہ داری سنبھال لی۔ چیئرمین امانت اللہ خان نے اس موقع پر کہا کہ اس شعبہ کے بغیر دہلی وقف بورڈ ادھورا تھا اور آج الحمدللہ وقف بورڈ مکمل ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شعبہ جسے دارالافتاء کا نام دیا گیا ہے دہلی کے مسلمانوں کے شرعی معاملات کا انتظام دیکھے گا اور نکاح و طلاق سے لیکر وراثت کی تقسیم، اہم مسائل میں فتاوی کا اجراء، دہلی کی سطح پر نکاح خواں اور قاضیوں کے پڑھائے ہوئے نکاحوں کا رجسٹریشن اس شعبہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہوں گے۔


امانت اللہ خان نے آگے کہا کہ ان تمام ذمہ داریوں کے علاوہ اوقاف کی مساجد کے جملہ امور اور ان کے تقاضوں کی تکمیل و نگرانی بھی اسی شعبہ کے تحت ہوگی۔ اس کے علاوہ وقف جائدادوں کا تحفظ، وقف کے شرعی اصول و ضوابط کے تحت ان کے صحیح استعمال کی ذمہ داریاں بھی اسی شعبہ کے تحت ہوں گی۔ امانت اللہ خان نے کہا کہ آج کے موجودہ حالات میں شادیوں کا رجسٹریشن کرانا ایک اہم مسئلہ ہے جس کا حل دہلی وقف بورڈ نے شعبہ دارالافتاء کی شکل میں نکالا ہے۔

امانت اللہ خان نے مزید بتایا کہ وقف بورڈ نے کافی دن پہلے اس شعبہ کے قیام کا ریزولیشن پاس کیا تھا جس کی تکمیل آج مفتی ذکاوت قاسمی اور مفتی طیب قاسمی کے ذریعہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے ہوگئی ہے جبکہ مزید اراکین جو کہ دیگر مکاتب فکر سے ہوں گے ان کا تقرر بھی جلد کردیا جائے گا۔ اس موقع پر شعبہ کے انچارج مفتی ذکاوت قاسمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نکاح و طلاق اور وراثت کی تقسیم شریعت اسلامیہ کے بہت اہم مسائل میں سے ہیں جن سے مسلمانان ہند اپنی روز مرہ کی زندگی میں روبرو ہوتے ہیں، ان مسائل کا حل شریعت اسلامیہ کی روشنی میں انشاء اللہ دہلی وقف بورڈ کے شعبہ دارالافتاء کے ذریعہ پیش کیا جائے گا۔


غور طلب ہے کہ دہلی وقف بورڈ اپنے چیئرمین امانت اللہ خان کی نگرانی میں روز افزوں ترقی کی راہ پر گامزن اور دھیرے دھیرے اپنے مقاصد کی تکمیل کی جانب رواں دواں ہے۔ وقف بورڈ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے ہی چیئرمین امانت اللہ خان نے جہاں بورڈ کے ظاہری حسن میں اضافہ کیا ہے وہیں بورڈ کی باطنی خوبیوں میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اور دھیرے دھیرے بورڈ صحیح معنوں میں اوقاف کے اصل مقاصد کی تکمیل کرتا نظر آرہا ہے۔ چیئرمین امانت اللہ خان نے ایک جانب جہاں وقف جائدادوں کے صحیح انتظام اور آمدنی میں اضافہ پر توجہ دی ہے وہیں بورڈ میں قابل اسٹاف کا تقرر کرکے آفس میں پیشہ وارانہ ماحول کو فروغ دیا ہے۔ بورڈ میں نئے اسٹاف کی تقرری سے کام میں تیزی آئی ہے اور ورک کلچر کو فروغ ملا ہے۔

بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دہلی وقف بورڈ پورے ہندوستان میں ایک مثالی بورڈ کی شکل میں ابھرا ہے جہاں سے ہزاروں کی تعداد میں بلا لحاظ مذہب و ملت غریب اور ضرورت مند طبقہ کی مدد کی جارہی ہے، طلبہ کی فیس، مطلقہ اور بیواؤں کے وظیفے، شادی کے لئے ضرورت مند لڑکیوں کی مدد، علاج کے لئے غریب لوگوں کی مدد اور اماموں و مؤذنوں کی تنخواہ میں تاریخ ساز اضافے سے لیکر کئی ایسے اقدامات ہیں جن میں بورڈ نے آگے بڑھ کر خدمت خلق کے میدان میں اپنی نئی پہچان بنائی ہے۔


شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے حالیہ مسلم کش فسادات میں دہلی وقف بورڈ نے متاثرین کی خدمت اور ان کی راحت رسانی وبازآباد کاری میں ایک مثالی کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جہاں لوگ بورڈ کو داد وتحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور بورڈ کے کاموں کی ستائش کرتے ہیں وہیں دہلی وقف بورڈ پر ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی مثال یہ ہے کہ آج غریب اور ضرورتمندوں کی مدد کے لئے مخیر حضرات آگے بڑھ کر دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں۔ غورطلب ہے کہ مفتی ذکاوت قاسمی اور مفتی طیب قاسمی نے تقرری کا عمل مکمل ہونے کے بعد اپنی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔