جاسوسی معاملہ: وزیر اعظم اور امت شاہ نے ’اسرائیلی ہتھیار‘ کا استعمال ہندوستانی اداروں کے خلاف کیا! راہل گاندھی

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پیگاسس سافٹ ویئر سے جاسوسی کے معاملہ کی تفتیش عدالت کے ذریعے کرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا استعفیٰ طلب کیا

راہل گاندھی / ٹوئٹر
راہل گاندھی / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے جاسوسی کرائے جانے کے معاملہ پر حزب اختلاف کی جانب سے حکومت کو لگاتار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اس معاملہ کی تفتیش عدالت کے ذریعے کرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا استعفیٰ طلب کیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعہ کے روز کہا کہ پیگاسس ایک سافٹ ویئر ہے جس کی اسرائیل کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف استعمال کئے جانے والے ہتھیار کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ مگر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اس ہتھیار کا استعمال ریاستِ ہند اور اداروں کے خلاف کیا۔ انہوں نے جاسوسی کرائے جانے کے اس انتہائی حساس معاملہ کی جانچ عدالت سے کرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔


مرکزی حکومت پر بڑا الزام عائد کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ میرا فون ٹیپ کیا جا رہا ہے۔ یہ مجھے معلوم ہے۔ خفیہ محکمہ کے کئی عہدیداران نے یہ بولا ہے کہ سر آپ کا فون ٹیپ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے کئی دوسوں کو فون کر کے بولا جاتا ہے کہ آپ راہل گاندھی کو بتا دیں کہ انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ میں ڈرتا نہیں ہوں اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘

ادھر، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے لگاتار چوتھے دن پیگاسس جاسوسی معاملہ پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے۔ کانگریس سمیت حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں نے لوک سبا اور راجیہ سبھا میں اس معاملہ پر بحث کرانے کے لئے التوا کے نوٹس پیش کئے ہیں، جبکہ پارلیمنٹ کے احاطہ میں بھی کانگریس سمیت کئی پارٹیوں نے گاندھی کے مجسمہ پر احتجاج کیا۔ کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج کے دوران نعرےبازی کرتے ہوئے جاسوسی معاملہ کی تفتیش سپریم کورٹ کی زیر نگرانی کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Jul 2021, 11:43 AM