ای آر شیخ ’ڈائریکٹوریٹ آف آرڈیننس‘ کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مقرر

حکومت نے آرڈیننس فیکٹری بورڈ کی جگہ تشکیل ڈائریکٹوریٹ آف آرڈیننس (کوآرڈنیشن اینڈ سروسز) کے ڈائریکٹر جنرل عہدے پر پہلی بار ای آر شیخ کو مقرر کیا ہے

ای آر شیخ / تصویر پی آئی بی
ای آر شیخ / تصویر پی آئی بی
user

یو این آئی

نئی دہلی: حکومت نے آرڈیننس فیکٹری بورڈ (او ایف بی) کی جگہ تشکیل ڈائریکٹوریٹ آف آرڈیننس (کوآرڈنیشن اینڈ سروسز) کے ڈائریکٹر جنرل عہدے پر پہلی بار ای آر شیخ کو مقرر کیا ہے۔ آج جاری ایک سرکاری ریلیز کے مطابق شیخ نے چارج سنبھال لیا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) ، کانپور سے تعلیم یافتہ ، شیخ انڈین آرڈیننس فیکٹری سروس (آئی او ایف ایس اے) کے 1984 بیج آفیسر ہیں۔ وہ گولہ بارود بنانے والی وزارت دفاع کی فیکٹریوں کی جدید کاری کی مہم کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے آرڈیننس مینوفیکچرنگ فیکٹری وارانگاؤں (مہاراشٹر) میں چھوٹے ہتھیاروں کے گولہ بارود کی تیاری کے لیے ایک جدید مینوفیکچرنگ سہولت قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (پروپیلنٹ اور دھماکہ خیز) کے طور پر دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے آرڈیننس مینوفیکچرنگ یونٹس کے پلانٹ کو جدید بنانے کا کام کرایا۔ اس سے ان میں پیداور ، معیار اور حفاظت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے توپ کے گولہ بارود کے لیے دو ماڈیولر چارج سسٹم (بی ایم سی ایس) کی ترقی کی کامیابی سے ساتھ قیادت کی۔ شیخ کو ان کی بہترین خدمات کے لیے 2020 میں ایودھ رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

حکومت 220 سالوں سے گولہ بارود کی سپلائی کرتے آرہے آرڈیننس فیکٹری بورڈ (او ایف بی) کو تحلیل کرکے یکم اکتوبر 2021 سے اس کے تحت آنے والی 41 یونٹوں کو نئے نظام کے تحت لانے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ ان فیکٹریوں کو وزارت دفاع کے تحت پبلک سیکٹر کی سات کمپنیوں میں دوبارہ منظم کیا جائے گا۔ ان کمپنیوں کی پوری ا حصہ داری حکومت کے پاس ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ان یونٹس کے کام اور پیداواری صلاحیت میں بہتری آئے گی۔

آرڈیننس فیکٹریوں کی کل سالانہ پیداوار تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے ہے۔ ان میں پاس 70 ہزار سے زائد ملازمین ہیں۔ اے ایف بی کا کام جمعہ سے ختم ہو جائے گا۔آگے اس کے کام کی نگرانی آرڈیننس ڈائریکٹوریٹ کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔