دلت، آدیواسی، وپسماندہ طبقات کی مخالفت بی جے پی کے ’ڈی این اے‘ میں: کھڑگے

کھڑگے نے کہا ہے کہ بی جے پی نے دلت، آدیواسی وپسماندہ طبقات کا ریزرویشن ختم کرنے کی ابتداء کی ہے لیکن کانگریس کمزور طبقات کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہرطرح کی لڑائی کے لیے تیار ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و مہاراشٹر کے نگراں ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ دلت، آدیواسی وپسماندہ طبقات کی مخالفت بی جے پی کے ڈی این اے میں ہی موجود ہے۔ اسی ذہنیت کی وجہ سے اس نے ریزرویشن ختم کرنے کی ابتداءکی ہے، لیکن کانگریس پارٹی کمزور طبقات کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہرطرح کی لڑائی کے لیے تیار ہے۔ کھڑگے ممبئی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی، مودی حکومت واتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے آئین میں دیئے گیے ایس سی، ایس ٹی واوبی سی طبقے کے ریزرویشن کے بنیادی حق پر ہی حملہ کردیا ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران کہا ہے کہ ایس سی، ایس ٹی واوبی سی طبقے کو سرکاری ملازمت میں ریزرویشن ان کا بنیادی حق نہیں ہے نیز سرکاری ملازمتوں میں انہیں ریزرویشن دینے کی ذمہ داری حکومت پرعائد نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے اتراکھنڈ حکومت کے اس موقف کو سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دینا ریاستی حکومتوں پر لازم نہیں ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اتراکھنڈ حکومت کا یہ موقف ایس سی، ایس ٹی و اوبی سی کو آئین کے ذریعے دیے گیے ریزرویشن کو ختم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے ذریعے ریزرویشن ختم کیے جانے کا معاملہ پارلیمنٹ اٹھایا گیا تو مودی حکومت نے پارلیمنٹ کو ہی گمراہ کرنے کی کوشش کی اور اپنی ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے 19 نومبر 2019 کو مکیش کمار معاملے میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔ 7 فروری 2020 کو سماعت کے دوران اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت کے وکیل کے مباحثے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ دیا۔ اس معاملے میں سابقہ اتراکھنڈ کانگریس حکومت کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا لیکن پارلیمنٹ میں بی جے پی کے وزراءنے کانگریس کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی وسنگھ پریوار ابتداء سے ہی ریزرویشن مخالف رہا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت وموہن ویدھ نے بار بار ریزرویشن کے خلاف بیانات دیے ہیں۔ نریندر مودی جب سے اقتدار میں آئے ہیں ایس سی، ایس ٹی و او بی سی کے لیے جاری اسکیموں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان اسکیموں کے لیے حکومتی فنڈ میں مسلسل تخفیف کر رہے ہیں۔ جبکہ کانگریس حکومت نے ایس سی، ایس ٹی و اوبی سی کی مطابق جاری اسکیموں کے لیے فنڈ فراہم کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت دلت آدیواسی وپسماندہ طبقات کے خلاف ہے اور یہ اس کے ڈی این اے میں موجود ہے۔ اسی وجہ سے حکومتی سرپرستی میں ان طبقات پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی ہمیشہ ایس سی، ایس ٹی واوبی سی کے ساتھ کھڑی رہی ہے اورآئندہ بھی رہے گی۔ ان طبقات کے حقوق کی حفاظت کے لیے کانگریس ہرطرح کی لڑائی کے لیے تیار ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڑ، وزیرتعلیم ورشاگائیکواڑ، سابق وزیر بابا صدیقی، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت، ڈاکٹر راجو واگھمارے اور سابق ایم ایل اے چرن سنگھ سپرا موجود تھے۔