نوئیڈا کے متعدد اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، سی بی ایس ای امتحانات کے دوران خوف و ہراس

نوئیڈا میں ایک درجن سے زائد اسکولوں کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی جب سی بی ایس ای کے امتحانات جاری تھے۔ پولیس، بم ناکارہ دستہ اور سائبر سیل حرکت میں آ گئے، اب تک کوئی مشتبہ شے نہیں ملی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نوئیڈا: نوئیڈا میں اس وقت افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی جب شہر کے ایک درجن سے زیادہ اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی پر مبنی ای میل موصول ہوئی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ یعنی سی بی ایس ای کے سالانہ امتحانات جاری ہیں۔ امتحانی عمل کے دوران اس طرح کی اطلاع ملنے سے طلبہ، والدین اور اسکول انتظامیہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح کئی نجی اسکولوں کی سرکاری ای میل آئی ڈی پر دھمکی آمیز پیغام بھیجا گیا، جس میں اسکول کی عمارتوں کو بم سے نشانہ بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ اسکولوں نے فوری طور پر مقامی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ احتیاطی اقدام کے طور پر بعض اسکولوں میں طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ کچھ مقامات پر سخت سکیورٹی کے حصار میں امتحانات جاری رکھے گئے۔


اطلاع کے فوراً بعد پولیس، سکیورٹی فورسز، ڈاگ اسکواڈ اور بم ناکارہ دستے موقع پر پہنچ گئے۔ اسکول کیمپس کے ہر حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ شے کی موجودگی کی تصدیق کی جا سکے۔ حکام کے مطابق اب تک کسی بھی اسکول سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم مکمل جانچ تک احتیاطی تدابیر برقرار رکھی جائیں گی۔

پولیس کی سائبر سیل ٹیم بھی سرگرم ہو گئی ہے اور دھمکی آمیز ای میل کی تکنیکی جانچ کر رہی ہے۔ ای میل کس آئی ڈی سے بھیجی گئی، سرور کہاں کا ہے اور اس کی لوکیشن کیا ہے، ان تمام پہلوؤں کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کی فرضی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں، جن میں تفتیش کے بعد کوئی حقیقی خطرہ سامنے نہیں آیا تھا، تاہم اس بار بھی کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی۔


انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ عہدیداران کا کہنا ہے کہ طلبہ کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ یہ دھمکی حقیقی تھی یا کسی شرپسند عنصر کی حرکت۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔