جب انجن ہی فیل ہے تو ڈبے بدلنے سے کیافائدہ : دیپانکر

کابینہ کی توسیع سے صرف انتخابی اور تنظیمی ترجیحات ظاہرہورہی ہیں۔ اپنی ناکامیوں کو نہ ماننے کی کوشش بھی صاف نظر آرہی ہے جو کہ مودی حکومت کی شناخت بن چکی ہے ۔

کابینہ توسیع کی فائل تصویر یو این آئی
کابینہ توسیع کی فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی ۔ لیننسٹ ( سی پی آئی ۔ ایم ایل ) کے قومی جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹہ چاریہ نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کی دوسری مدت کار کی پہلی کابینہ توسیع پر طنزکرتے ہوئے کہاکہ جب انجن ہی فیل ہے تو ڈبے بدلنے سے کیا فائدہ ۔

بھٹہ چاریہ نے کل یعنی جمعرات کو کہاکہ کورونا وبا کے دوران ہر محاذ پر اپنی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے بڑے پیمانے پر مرکزی کابینہ میں ردو بدل وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ بلی کا بکرا ڈھونڈنے کی مایوس کن کوشش ہے ۔ صحت ، تعلیم ، ماحولیات ، لیبر ، قانون اور انصاف ، اطلاعات و نشریات سبھی محکموں کے وزیر وبا کے دور میں ناکارہ ثابت ہوئے ہیں تو اس کا ایک واحد مطلب ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح بھاگ کھڑی ہوئی ہے ۔


سی پی آئی۔ ایم ایل نے کہاکہ جو تبدیلیاں ہوئی ہیں اور جس طرح نئے وزیر بنائے گئے ہیں اس سے نہ صرف انتخابی اور تنظیمی ترجیحات ظاہرہورہی ہیں بلکہ اپنی ناکامیوں کو نہ ماننے کی بے شرم کوشش بھی صاف نظر آرہی ہے جو کہ مودی حکومت کی شناخت بن چکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دہلی اسمبلی انتخاب میں ’ گولی مارو‘ کا مشتعل نعرہ دینے والے مسٹر انوراگ ٹھاکر ، جن پر الیکشن کمیشن نے روک لگائی تھی ، کو نیا انفارمیشن منسٹر بنانا یا مرکزی وزیر صحت کے طورپر منسوکھ مانڈویہ کو اور کیسے سمجھا جاسکتاہے ۔

مسٹر بھٹہ چاریہ نے کہاکہ وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اس حکومت میں ” ڈبل انجن “ ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر مرکزی کابینہ کی توسیع کر کے یہ ڈبل انجن اپنی ناکامیوں کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ جب انجن ہی فیل ہے تب ڈبے بدلنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔