انرجی بچت سرٹیفکیٹ کی آن لائن ٹریڈنگ کا نظام تیار

انرجی کی وزارت نے اہم صنعتوں کی انرجی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کئی پہل کی ہیں۔ اس کا مقصد فوسل انرجی، کوئلہ، تیل اور گیس کی کھپت کو کم کرنا ہے جس سے کاربن معیشت کم ہو سکے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: پیرس معاہدے کے تحت کاربن اخراج کم کرنے والی انڈسٹریل یونٹس کو ملنے والی انرجی بچت سرٹیفکیٹ کی آن لائن ٹریڈنگ کے لیے حکومت نے ایک آن لائن سرٹیفکیٹ کا نظام تیار کیا ہے۔ انرجی کی وزارت نے 349 انڈسٹریل یونٹس کو 57 لاکھ سے زیادہ انرجی بچت سرٹیفکیٹ 349 انڈسٹریل یونٹس کو 57 لاکھ سے زائد انرجی بچت سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں۔ ان صنعتوں نے ہدف سے زائد انرجی کی بچت کی ہے۔ یہ یونٹس ایک ماہ کے بعد پاور ایکسچینج پورٹل کے ذریعے سے ان یونٹس کو سرٹیفکیٹ کی فروخت کرنے کی اہل ہوں گی جو اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر سکے۔

وزارت کے افسران کے مطابق ہندوستان واحد جی-20 ملک ہے جو پیرس معاہدے کے مطابق 2 ڈگری سے کم درجہ حرارت کی راہ پر ہے۔ اسٹیل، سیمنٹ، ریفائنری، کھاد اور دیگر علاقوں کے بڑی صنعتوں نے اس سمت میں بہتر کوشش کی ہیں۔ انرجی کی وزارت نے اہم صنعتوں کی انرجی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کئی پہل کی ہیں۔ اس کا مقصد فوسل انرجی، کوئلہ، تیل اور گیس کی کھپت کو کم کرنا ہے جس سے کاربن معیشت کم ہو سکے۔ یہ نہ صرف ہندوستان کے لیے انرجی کو تحفظ کو بڑھائے گا بلکہ پیرس سمجھوتے کے مطابق موسمیاتی اہداف کی سمت میں بھی حصہ داری دے گی۔


مظاہرہ، دستیابی اور تجارت (پی اے ٹی) کے طور پر جانے والی اہم پہل میں سے ایک کو مرحلہ-دو (2016-19 کے دوران) کے تحت 11 علاقوں کے 621 بڑی صنعتوں کو شامل کرتے ہوئے نافذ کیا گیا تھا۔ اس پہل کا آغاز کرنے والے انرجی ایفیشینٹی بیورو نے ان صنعتوں کی جانب سے موصول انرجی بچت کی توثیق کی، جنھیں نامزد صارف (ڈی سی) کہا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔