احمد پٹیل کے جانے سے ایک دور کا خاتمہ، تعزیتی نشست میں سیاسی لیڈران کا خراج عقیدت

وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے نے کہا کہ احمد پٹیل ایسی شخصیت کے حامل تھے جو ہمیشہ مصروف رہتے تھے۔ ایسے شخصیتیں تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتیں۔

تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @INCMaharashtra
تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @INCMaharashtra
user

یو این آئی

ممبئی: مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے کانگریس رہنما و راجیہ سبھا رکن مرحوم احمد پٹیل کی تعزیتی نشست کل شام ممبئی کے یشونت راؤ چوہان پرتسٹھان میں ہوئی، جس میں ریاست کے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے، این سی پی کے سربراہ شردپوار، کانگریس کے ریاستی صدر بالاصاحب تھورات، حزبِ اختلاف کے لیڈر دیوندرفڈنویس سمیت ریاست بھر کے بیشتر قدآر لیڈران شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے نے کہا کہ احمد پٹیل ایسی شخصیت کے حامل تھے جو ہمیشہ مصروف رہتے تھے۔ ایسے شخصیتیں تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتیں۔ احمد پٹیل نے 26 سال کی عمر میں اپنا پہلا الیکشن لڑا اور آخر تک وہ سرگرم رہے مگر کبھی ان کے اندر عہدے کی کوئی طلب نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے پارٹی کے لیے خود کو وقف کردیا تھا۔ اپنی پارٹی کو مضبوط ومستحکم کرنے میں ہی ان کی پوری توجہ رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ احمد پٹیل ہی تھے جنہوں نے مہاراشٹر میں کانگریس، این سی پی و شیوسینا کے اتحاد کو تشکیل دیا، اس لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مہاوکاس اگھاڑی کے قیام میں اہم اور قائدانہ رول ادا کیا۔


اس موقع پر این سی پی کے قومی سربراہ شردپوار نے کہا کہ 1984 میں راجیوگاندھی کے ساتھ جونوجوان چہرے تھے ان میں سے ایک احمد پٹیل تھے۔ اپنی پوری زندگی انہوں نے پارٹی کی تنظیم کے لیے کام کیا۔ ان کے دل میچ پارٹی کے استحکام کی مسلسل فکر رہتی تھی۔ یو پی اے کے دورِ حکومت میں ان پر دس سال تک نہایت اہم ذمہ داری رہی۔ اس دوران اگر کچھ مسائل پیدا ہوئے تو سونیاگاندھی ومنموہن سنگھ کے ساتھ انہوں نے اسے حل کرنے میں اپنی بھرپور مہارت کا ثبوت دیا۔

شردپوار نے کہا کہ ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی تھی کہ یو پی اے حکومت کیسے کامیابی کے ساتھ چلے، یوپی اے میں شامل تمام پارٹیوں کو کیسے متحد رکھا جائے اور اگر کبھی کوئی مشکل درپیش آتی تھی تو اس میں سے نکلنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے۔ اقتدار میں شامل رہتے ہوئے بھی احمد پٹیل کے دماغ میں کبھی اقتدار کی ہوس نہیں پیدا ہوئی۔ ان کا مزاج مکمل طور پر پارٹی کی تنظیمی قوت مضبوط کرنے کا رہا ہے۔


مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ ریاست میں کانگریس، این سی پی وشیوسینا کی حکومت کے قیام میں احمد پٹیل کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ اپنے آخری ایام میں انہوں نے نہایت گراں قدر خدمت انجام دیتے ہوئے ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت قائم کرنے میں مدد کی۔ احمد پٹیل بھائی کے یاد داشت بلا کی تھی۔ وہ ملک کے تمام سیاسی قائدین کو نہ صرف جانتے تھے بلکہ ان کے رابطے میں بھی رہتے تھے۔ جب پارٹی کچھ کمزوریوں کی شکار ہوئی تو احمد پٹیل نے انہیں دور کرنے کے لیے بہت محنت کی۔ ان کے پاس موجودہ وزیراعظم نریندرمودی کو چیلنج کرنے کی قوت تھی۔ وہ ہمیشہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی رہنمائی کرتے رہے۔ احمد پٹیل کا اس دنیا سے چلے جانا گویا ایک باب کا خاتمہ ہے۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ ایک لیجنڈن کی حیثیت سے زندہ رہیں گے۔

ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور محکمہ تعمیرات عامہ کے موجودہ وزیر اشوک چوہان نے کہا کہ ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی کا قیام دراصل احمد پٹیل کی ہی وجہ سے ممکن ہوسکا۔ جبکہ سابق وزیراعلیٰ سشیل کمار شندے نے کہا کہ 1992 میں جب احمد پٹیل جنرل سکریٹری کی حیثیت سے مرکزی سیاست میں توجہ دینا شروع کی تو اس وقت نرسمہاراؤ اور سونیاگاندھی کے درمیان رابطے کا ذریعہ صرف احمد پٹیل ہی تھے۔ احمد پٹیل وہ عظیم لیڈر تھے جو حکومت کی تشکیل سے لے کر اسے چلانے تک کی مہارت رکھتے تھے۔


ریاست کے طبی تعلیم کے وزیر امت دیشمکھ نے بھی احمد پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔ احمد پٹیل کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کی آواز بھرآئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد ولاس راؤ دیشمکھ اور احمد پٹیل کے نہایت گہرے تعلقات تھے۔ ان کے چلے جانے سے میرا بہت زیادہ ذاتی نقصان ہوا ہے۔

حزبِ مخالف لیڈر دیوندرفڈنویس نے اس موقع پر کہا کہ احمد پٹیل کی اچانک موت سے ہم سب کو شدید صدمہ پہنچا۔ ملک کی سیاست میں ان کا علیحدہ مقام تھا۔ میری ان سے دوبار ملاقات ہوئی تھی اس دوران ان کی سادگی اور ملنساری نے مجھے ان کا گرویدہ بنالیا تھا۔ جس احمد پٹیل نے کئی لوگوں کو وزیراعلیٰ بنائے کئی لوگوں کو وزیر بنائے، وہ احمد پٹیل کبھی کوئی وزیر نہیں بنا۔ یہ تھی ان کی سادگی اوراپنی پارٹی کی تنظیم سے ان کا جڑاؤ۔ انہوں نے پارٹی کی تنظیم کی جانب ہمیشہ توجہ دی۔ بیشتر پارٹیوں میں وزیر بننے والے ہوتے ہیں مگر پردے کے پیچھے سے احمد پٹیل بھائی کی طرح کام کرنے والے کم ہی ہوتے ہیں۔


اس تعزیتی میٹنگ میں مذکورہ بالا خیالات کا اظہار کرنے والے لیڈران کے علاوہ ودھان سبھا کے چیئرمین نانا پٹولے، مہاراشٹر کانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڑ، اور دیگر لیڑران اس موقع پر موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔