اردو میں سائنسی صحافت کے فروغ کے لئے اقدامات کی ضرورت پر زور

کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ اجلاس میں سائنسی علوم کے عام فہم اردو تراجم کے علاوہ اردو اخبارات، روایتی میڈیا اور نئے میڈیا میں سائنس کے کوریج میں اضافہ پر بھی اتفاق کیا گیا۔

تصویر یو ین آئی
تصویر یو ین آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے وگیان پرسار اور سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے اشتراک سے کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ دسویں قومی اردو سائنس کانگریس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مختلف طریقوں اور مختلف میڈیا کے ذریعہ اردو زبان میں سائنسی موضوعات کو مقبول بنانے کے لئے ہمہ گیر اقدامات کئے جائیں۔ سائنسی علوم کے عام فہم اردو تراجم کے علاوہ اردو اخبارات، روایتی میڈیا اور نئے میڈیا میں سائنس کوریج میں اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

دسویں اردو سائنس کانگریس میں اردو کتب و رسائل اور اخبارات کے لئے بھی ایک اجلاس رکھا گیا۔ اس میں سائنس رپورٹر اور سائنس کی دنیا کے مدیر حسن جاوید خاں، آجکل اور روزگار سماچار کے اعزازی مدیر حسن ضیاء اوراردو کے سائنسی ماہنامہ ”تجسس“ کی مدیرہ عرفانہ بیگم اورمرکزی کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر غیاث الدین نے اظہار خیال کیا۔


سائنس کانگریس سے اپنے خطاب میں آجکل اور روزگار سماچار کے اعزازی مدیر حسن ضیاء نے کہا کہ اردو صحافت کو شامل کئے بغیر اردو میں سائنس کو مقبول عام بنانا ممکن نہیں ہے۔ سائنس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کا کام صرف درس گاہوں اور وہاں کے اساتذہ تک محدود نہیں رہنا چاہئے، بلکہ اس مہم اور تحریک میں اردو کے صحافیوں کی سرگرم شرکت ہونی چاہئے۔

اردو میں اچھے تربیت یافتہ صحافیوں اور سائنسی صحافیوں کی کمی ہے کیوں کہ اردو اخبارات میں نوکری کرنے کے لئے اردو صحافی بننا کوئی بہت پرکشش کیریئر نہیں ہے۔ باصلاحیت نوجوانوں کو، جن کا سائنس کی تعلیم کا پس منظر ہے، وظائف پیش کرکے اور مفت تربیت دے کر سائنسی صحافی بننے کے لئے تیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں وگیان پرسار، ماس میڈیا کی تعلیم کے ادارے، یونیورسٹیاں اور اردو کے فروغ کے مقصد سے قائم کئے گئے اداروں کو آگے آنا ہوگا۔


مرکزی حکومت کی جانب سے اس برس کی ابتداء میں جاری پانچویں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات پالیسی کے مسودے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس پالیسی میں سائنس کو تجربہ گاہوں اور تحقیقی و علمی اداروں سے عوام تک پہنچانے میں مین اسٹریم میڈیا کے رول کی خاص اہمیت بتائی گئی ہے اور قومی اور ریجنل میڈیا سنٹر کھولنے کی تجویز بھی ہے۔

انھوں نے تجویز پیش کی کہ خالص سائنسی اردو رسائل سائنس کی دنیا، ماہنامہ سائنس اور ماہنامہ تجسس کے علاوہ اردو کے اخبارات اور رسائل اور اردو کے چینلوں اور اردو کے نئے میڈیا یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر سائنس سے متعلق خبروں، مضامین اور فیچرس کی شمولیت کے لئے اردو میں سائنسی خبررساں ایجنسی اور سائنسی فیچر سروس شروع کرے کی ضرورت ہے اور موجودہ اردو خبر رساں ایجنسیوں میں سائنس سروس شروع کرنے کو بھی ترجیح دی جانی چاہئے تاکہ سائنسی رویہ اور سائنسی مزاج پیدا کرنے کا مقصد حاصل ہوسکے۔


حسن ضیاء نے مزید کہا کہ اردو قارئین کی کم ہوتی تعداد، اردو جاننے والوں کی اردو اخبارات و رسائل سے کم ہوتی دلچسپی اور اردو اخبارات کی خستہ مالی حالت کے سبب اردو صحافت میں سائنس کے کوریج میں اضافے کی کوششیں، حکومت اور نجی اداروں کے مالی تعاون اور ماہرانہ تربیت کے بغیر دشوار نظر آتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔