جے این یو حملہ ’فاسسٹ سرجیکل اسٹرائیک‘ کے مترادف: ممتا بنرجی

وزیرا علیٰ نے کہا کہ اس سے قبل ملک میں اس طرح کے واقعات پیش نہیں آتے تھے۔ ہر بات پر پاکستان کا ایشو اچھال دیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں جمہوریت کا فقدان ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے جے این یو میں طلباء و اساتذہ پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آج ایمرجنسی جیسے حالات بنا دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے این یو میں جس طرح سے نقاب پوشوں کی طرف سے اندر گھس کر حملہ کیا گیا وہ کچھ اور نہیں بلکہ ’فاسسٹ سرجیکل اسٹرائیک ہے‘۔

وزیرا علیٰ نے کہا کہ اس سے قبل ملک میں اس طرح کے واقعات پیش نہیں آتے تھے۔ ہر بات پر پاکستان کا ایشو اچھال دیا جاتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں جمہوریت کا فقدان ہے، ہمیں فخر ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔

وزیرا علیٰ نے کہا کہ یہ طلباء پر حملہ نہیں بلکہ جمہوریت پر حملہ ہو رہا ہے۔ آج کسی کو بھی حکومت کی تنقید کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر کوئی مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کرتا ہے تو اسے پاکستان کا وفادار بتا کر اس کی آواز کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیا ہندوستان بھی پاکستان کی طرح غیر جمہوری ملک ہو جائے گا! پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے۔ جب کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہمیں اس پر فخر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قبل بھی مرکزی حکومت پر تنقید ہوتی تھی مگر کسی پر یوں غدار کا لیبل چسپا نہیں کیا جاتا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے طلباء براداری سے متحد ہو کر قسطائی قوتوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کل جے این یو میں کیا ہوا، اس سے قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی، وشو بھارتی یونیورسٹی، آئی آئی ٹی کانپور اور جادو پور یونیورسٹی میں جو کچھ ماضی میں ہوا ہے یہ سرجیکل اسٹرائیک ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا، اس سے زیادہ شرمناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ درس گاہوں کو جنگ کا میدان بنادیا گیا ہے۔ طلباء کو خاموش کرانے کیلئے غنڈہ گردی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ وزیرا علیٰ نے کہا کہ سینٹرل فورسیس جن کی ذمہ داری ملک کے عوام کی حفاظت کرنا تھیاس کے جوانوں کو اب لیڈروں کی سیکورٹی میں لگادیا گیا ہے، بنگال میں درجنوں بی جے پی لیڈروں کو بڑے پیمانے پر سیکورٹی دی گئی ہے۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ دوسری ریاستوں میں امن و امان کی بات کرنے والی بی جے پی کو جواب دینا ہوگا کہ لکھنو، مرادآباد اور کانپور میں کیا ہو رہا ہے!