فکسڈ چارج وصول کرنے کے عوض 6 ماہ تک نہ بھیجے جائیں بجلی کے بل: شیلا دکشت

شیلا دکشت نےپریس کانفرنس میں کہا کہ کیجریوال حکومت نے بجلی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں بجلی کے میٹر لگوائے اورصارفین کی جیب سے ہزاروں کروڑ روپے لوٹ کر کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی کانگریس نے دارالحکومت میں بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کے ساتھ ساز باز کر کے فکسڈ چارج لگا کر وصول کیے گئے 7400 کروڑ روپے کے عوض صارفین سے اگلے چھ ماہ تک بجلی بل کی وصولی نہیں کی جائے۔

ریاستی کانگریس صدر شیلا دکشت نے ہفتہ کے روز پارٹی کے دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ کیجریوال حکومت نے بجلی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں حال ہی میں بجلی کے میٹر لگائے اور مقررہ چارج کے نام پر صارفین کی جیب سے ہزاروں کروڑ روپے لوٹ کر کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ میٹر لگانے کے نام پر بجلی صارفین کے ساتھ بڑا فریب کیا گیا۔
شیلا دکشت نے کہا کہ پہلے بجلی میٹر کے لئے مقررہ چارج 20 یا 25 روپے ہوتا تھا اور غریبوں کو فائدہ پہنچانے کا ڈھونگ کرکے اسے 125 روپے سے 250 روپے کر دیا گیا۔ ا س سے گزشتہ مالی سال میں دارالحکومت میں بجلی کی سپلائی کر نے والی کمپنیوں نے 4709 کروڑ روپے کی وصولی کی۔ اس کے علاوہ پنشن ٹرسٹ اور ایندھن چارج کے نام پر بھی موٹی رقم وصولی گئی۔ یہ رقم 18 ماہ میں 7401 کروڑ روپے تک ہو جائے گی۔


اس موقع پر سابق وزیر توانائی اور ریاست کے ایگزیکٹو چیئرمین ہارون یوسف، راجیش للوٹھيا، سابق وزیر منگت رام سنگھل، رماکانت گوسوامی، کرن والیہ اور ترجمان جتیندر کوچر بھی موجود تھے۔

ہارون یوسف نے کہا کہ دہلی اسمبلی کا الیکشن قریب آنے پر اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی بجلی چارج کو واپس لینے کی بات کرنے لگے ہیں۔ اس سلسلے میں 10 جولائی کو دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری اتھارٹی (ڈی ای آر سی) میں سماعت ہوگی اور چارج واپس لینے کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کیا گیا تو وہ یکم اگست سے لاگو ہو پائے گا۔ اس طرح یکم اپریل 2019 سے اور واپس لیے جانے تک کی مدت میں بجلی صارفین سے 7401 کروڑ روپے غیر مناسب طور سے وصولے جا چکے ہوں گے۔


انہوں نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی خاموشی پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ انل امبانی سے ان کی کیا دوستی ہے؟ دہلی میں بجلی فراہمی کرنے والی تین کمپنیون میں دو بی وائی پی ایل اور بی آر پی ایل انل امبانی کی ہیں۔ ہارون یوسف نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پیر کے روز وزیر اعلی سے ملاقات کر کے یہ مطالبہ کریں گے کہ متعینہ چارج کے نام پر وصولی گئی اس موٹی رقم کے بدلے میں بجلی صارفین سے چھ ماہ تک بلوں کی ادائیگی نہیں لی جائے۔

انہوں نے کہا کہ چار پانچ دنوں میں بجلی کمپنیوں اور وزیر اعلی کی ملی بھگت سے صارفین کو لگائی جا رہی ایک اور موٹی چپت کا انکشاف کریں گے۔ سابق وزیر توانائی نے کہا کہ کمپنیوں نے سپلائی کو بہتر بنانے کے لئے جو سرمایہ کاری کی جانی تھی، وہ نہیں کی گئی اور اب بڑی تعداد میں ٹرانسفارمر جل رہے ہیں اور بہت سے علاقوں میں چار سے چھه گھنٹے تک بجلی گل رہتی ہے۔ پہلے بجلی کے غلط بلوں کو درست کرنے کا حق حکومت کے پاس تھا ، اب یہ بجلی کمپنیوں کی صوابدید پر منحصر ہے۔


دہلی میٹرو اور دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( ڈی ٹی سی) کی بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سوغات کو انتخابی شگوفہ بتاتے ہوئے ہاون یوسف نے کہا کہ اس پر عوام سے رائے لی جائے گی اور تین ماہ بعد رپورٹ کا مطالعہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا دہلی میں اسمبلی انتخابات قریب آچکے ہیں اور جب تک رپورٹ کا مطالعہ کا کام ہوگا، تب تک انتخابات کا اعلان ہو جائے گا اور مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہو چکا ہوگا اور یہ اعلان صرف اعلان رہ جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈی ٹی سی کے پاس بسیں بہت کم تعداد میں ہیں۔
ہارون یوسف نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں دہلی میں عام آدمی پارٹی ( عاپ) کی 'درگت' سے وزیر اعلی بری طرح مایوس ہیں اور ایسے اعلانات کر کے لوگوں کی توجہ پانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعلی خواتین کے تحفظ پربھی سنجیدہ نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔