ایس آئی آر: امرتیہ سین کو الیکشن کمیشن کا نوٹس، 16 جنوری کو طلب، ترنمول کانگریس کا شدید ردعمل

الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امرتیہ سین کو نوٹس جاری کر کے 16 جنوری کو سماعت کے لیے طلب کیا۔ ٹی ایم سی نے اسے توہین آمیز اور سیاسی کارروائی قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>امرتیہ سین / Getty Images</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے سلسلے میں نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امرتیہ سین کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس نوٹس کے ذریعے 92 سالہ امرتیہ سین کو 16 جنوری کو ان کی رہائش گاہ پر سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اس اقدام پر ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک تماشہ قرار دیا ہے اور انتخابی اداروں کی نیت پر سوال اٹھائے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق امرتیہ سین اس وقت بیرونِ ملک ہیں، اس لیے نوٹس ان کے آبائی گھر شانتی نکیتن، بولپور میں موجود ان کے خاندان کے ایک فرد کو سونپا گیا۔ سین کے ایک قریبی رشتہ دار نے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے امرتیہ سین کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی بلاجواز دباؤ کے مترادف ہے اور اس سے ایک معزز علمی شخصیت کو غیر ضروری طور پر پریشان کیا جا رہا ہے۔


متعدد نوٹس دیے جانے کے دعووں پر وضاحت کرتے ہوئے مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ امرتیہ سین کو صرف ایک ہی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ افسر کے مطابق سین کی جانب سے جمع کرائے گئے گنتی کے فارم میں کچھ منطقی تضادات پائے گئے ہیں، جن میں سین اور ان کی والدہ کی عمر کے فرق کا اندراج 15 سال سے کم دکھایا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر وضاحت کے لیے سماعت مقرر کی گئی ہے۔ افسر نے مزید کہا کہ چونکہ سین کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے، اس لیے قواعد کے مطابق بوتھ لیول افسر خود ان کی رہائش گاہ پر جا کر سماعت کرے گا۔

اس نوٹس کے منظرِ عام پر آنے سے قبل ہی سیاسی ماحول گرم ہو چکا تھا۔ ترنمول کانگریس کے ایک سینئر رہنما نے الزام عائد کیا کہ امرتیہ سین جیسے عالمی سطح کے معزز دانشور کو ایس آئی آر کے تحت نوٹس دینا بنگال کے عوام کی توہین کے برابر ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔

نوٹس جاری ہونے کے بعد ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت کو عام مجرم کی طرح سماعت کا نوٹس دینا ناقابلِ قبول ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کا عمل انتخابی کمیشن اور حکمراں جماعت کے اشارے پر بنگال کو بدنام کرنے اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے، جو ریاستی وقار کے خلاف ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔