ممتا بنرجی کو الیکشن کمیشن کا نوٹس، مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کے معاملہ پر جواب طلب

الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 اپریل کو ہگلی کے تارکیشور میں مذہبی بنیاد پر ووٹنگ کی اپیل کرنے پر جواب طلب کیا ہے

ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کولکاتا: الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے 3اپریل کو ہگلی کے تارکیشور میں مذہبی بنیاد پر ووٹنگ کی اپیل کرنے پر جواب طلب کیا ہے۔

66 سالہ ممتا بنرجی کوالیکشن کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ نوٹس ملنے کے 48 گھنٹوں کے اندر اپنے ریمارکس کی وضاحت کریں ۔اگر وہ وضاحت نہیں دیں گی تو کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی سربراہی میں بی جے پی کے ایک وفد کے ذریعہ ممتا بنرجی کے خلاف شکایت کئے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے یہ نوٹس جاری کیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممتا بنرجی کے اس بیان پر نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔

ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ میں اپنے اقلیتی بھائی اور بہنوں سے ہاتھ جوڑکر درخواست کرتی ہوں کہ وہ شیطان کی بات سن کر اقلیتی ووٹ کو تقسیم نہ کریں ،اس نے بی جے پی کےلئے پیسہ لیا ہے ۔اس شخص نے فرقہ وارانہ بیان دیا ہے۔ہندو اور مسلمانوں کو لڑانے کی کوشش کی ہے ۔سی پی ایم اور بی جے پی دونوں ایک ہیں اور اس کے سات ھ کھڑے ہیں ۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممتا بنرجی کا یہ بیان آر پی ایکٹ اور ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی - 10 اپریل کو چوتھے مرحلے سے قبل کوچ بہار میں تقریر کرتے ہوئے وزیرا عظم نے کہا تھا کہ ’’دیدی ( آپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ تمام مسلمان متحد ہوجائیں اور اپنے ووٹوں کو تقسیم نہیں ہونے دیں ... اس کا مطلب ہے کہ آپ کو یقین ہے کہ مسلم ووٹ بینک بھی آپ کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ، مسلمان بھی آپ سے منہ پھیر چکے ہیں ۔وزیرا عظم نے کہا کہ اگر میں کہتا کہ ہندو ووٹرس متحد ہوجائیں تو اب تک الیکشن کمیشن نوٹس بھیج دیا ہوتا ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔