اپنے آقا کے اشارے پر کام کر رہا ہے الیکشن کمیشن: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن اپنے آقا کی آواز بن کر لوگوں کے ووٹ دینے کے حقوق چھیننے میں مصروف ہے اور پھر بھی یوم رائے دہندگان منانے کی ہمت کر رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال میں رواں سال اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے، جس کو لے کر تمام سیاسی پارٹیاں تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہیں۔ حالانکہ انتخاب سے قبل ہی صوبہ کی سیاست گرما گئی ہے۔ بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ایس آئی آر کو لے کر مسلسل بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہے۔ اس درمیان انہوں نے ایک بار پھر سے کمیشن پر شدید حملہ کیا ہے اور بی جے پی کےاشارے پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے یوم رائے دہندگان (ووٹر ڈے) منانے پر الیکشن کمیشن کو گھیرا ہے۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اتوار (25 جنوری) کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ نیشنل ووٹر ڈے کی تقریب کو ’افسوسناک تماشہ‘ قرار دیتے ہوئے اس پر بی جے پی کے اشارے پر اپوزیشن کو کچلنے اور ملک کی جمہوریت کی بنیادوں کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے آقا کی آواز بن کر لوگوں کے ووٹنگ کے حقوق کو چھیننے میں مصروف ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی جو ان کا آقا ہے، کے اشارے پر وہ وہ اپوزیشن کو کچلنے اور ہندوستانی جمہوریت کی بنیادوں کو برباد کرنے میں مصروف ہیں اور پھر بھی ان میں یوم رائے دہندگان منانے کی ہمت ہے۔‘‘


ترنمول کانگریس کی سربراہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان کا الیکشن کمیشن آج قومی یوم رائے دہندگان منا رہا ہے، اور یہ کتنا افسوسناک تماشہ ہے۔ کمیشن اپنے آقا کی آواز بن کر لوگوں کے ووٹ دینے کے حقوق چھیننے میں مصروف ہے اور پھر بھی یوم رائے دہندگان منانے کی ہمت کر رہا ہے، میں آج ان کے اس رویے سے بہت افسردہ اور پریشان ہوں۔‘‘

ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ’’معزز سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے اور عوام کے جمہوری حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرنے کے بجائے، الیکشن کمیشن منطقی تضادات کے نام پر نئے نئے بہانے تلاش کر رہا ہے تاکہ لوگوں کو پریشان کر سکے اور انہیں ان کے انتخابی حقوق سے محروم کر سکے۔‘‘ ممتا بنرجی کے مطابق الیکشن کمیشن بی جے پی کے حق میں اپوزیشن کو کچل رہا ہے اور ہندوستانی جمہوریت کی بنیادوں کو تباہ کر رہا ہے، اور پھر بھی ان میں یوم رائے دہندگان منانے کی ہمت ہے۔


وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ’’الیکشن کمیشن آف انڈیا آپ آج بے مثال طریقے سے لوگوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ آپ کی ان اذیتوں کی وجہ سے 130 سے زائد افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔ کیا آپ 85، 90، 95 سال سے زائد عمر کے افراد اور یہاں تک کہ معذور افراد کو بھی، جس طرح سے آپ کر رہے ہیں، اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے اپنے سامنے پیش ہونے کے لیے بلا سکتے ہیں؟ اس قسم کے غیر قانونی دباؤ سے پیدا ہونے والا تناؤ خودکشیوں اور اموات کے ایک نہ رکنے والے سلسلے کو جنم دے رہا ہے، اور اس پھر بھی آپ اپنے سیاسی آقاؤں کے اشارے پر ایسا کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نے اسے شہریوں، بالخصوص اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے این آر سی کا ایک تجربہ بنا دیا ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’انتخاب جمہوریت کا جشن ہے۔ لیکن آپ کا جانبدارانہ رویہ اور یکطرفہ غیر قانونی اقدامات، ہراساں کرنے کے عمل کو مزید بڑھانے کے لیے مائیکرو مبصرین کی تعیناتی اور لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہماری جمہوریت کو تباہ کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آج آپ کو یوم رائے دہندگان منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘