الیکشن کمیشن نے 6 خطوط کا جواب نہیں دیا، زندہ لوگوں کو ایس آئی آر میں مار دیا: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے کہا کہ 2002 میں بنگال میں ایس آئی آر ہوا تھا۔ اب انتخاب سے قبل بنگال میں ایس آئی آر کیوں کرایا گیا؟ تمل ناڈو، کیرالہ اور بنگال جہاں اپوزیشن کی حکومتیں ہیں، وہیں ایس آئی آر کیا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی، تصویر بشکریہ&nbsp;@AITCofficial</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل (3 فرروری) کو دہلی میں پریس کانفرنس کر الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر کئی سوال کھڑے کیے۔ اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر آئیں ممتا بنرجی نے کہا کہ میرے پیچھے بیٹھے لوگ ایس آئی آر کے متاثرین ہیں۔ میں نے ایس آئی آر کے متعلق الیکشن کمیشن کو 6 خطوط لکھے، لیکن اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ٹی ایم سی کا وفد الیکشن کمیشن سے ملا، پھر بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ایوان میں بھی اپوزیشن کی آواز کو صحیح طریقے سے رکھنے نہیں دیا جاتا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ 2002 میں بنگال میں ایس آئی آر ہوا تھا۔ اب عین انتخاب سے قبل بنگال میں ایس آئی آر کیوں کرایا گیا؟ تمل ناڈو، کیرالہ اور بنگال جہاں اپوزیشن کی حکومتیں ہیں، وہیں ایس آئی آر کیا جا رہا ہے۔ ایس آئی آر میں زندہ لوگوں کو بھی مردہ قرار دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے کچھ لوگوں سے ہاتھ اٹھوا کر دکھایا کہ وہ زندہ ہیں، لیکن ایس آئی آر میں مردہ بتائے گئے ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران جن بی ایل او ورکرز کی موت ہوئی تھی، ان کے اہل خانہ سے بھی ہاتھ اٹھوائے گئے۔


ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ بنگال میں غیر قانونی طریقے سے الیکٹورل آبزرور کی تقرری کی گئی، جو بی جے پی سے وابستہ افسران ہیں۔ مائیکرو آبزرور بھی مقرر کیے گئے، انتقام کے جذبے سے لوگوں کو درکنار کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امرتیہ سین کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے۔ ان کے والدین کی عمر میں فرق کی وجہ سے انہیں طلب کیا جا رہا ہے۔ جے گوسوامی ایک معروف شاعر ہیں، انہیں بھی نوٹس دیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ آئی ٹی افسر سیما کھنہ اپنا نام واپس لے رہی ہیں۔ ممتا بنرجی کے مطابق وہ ای آر او سے کوئی سفارش لیے بغیر ہی اپنا نام واپس لے رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے مطابق ایس آئی آر کا مسئلہ اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں میں ہو رہا ہے، آسام یا شمال مشرق میں نہیں۔ میں نے 6 خطوط لکھے ہیں، میری پارٹی کا وفد کئی بار الیکشن کمیشن کے پاس جا چکا ہے۔ معاملہ ابھی عدالت میں چل رہا ہے، سماعت کی تاریخ طے ہو چکی ہے اس لیے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گی۔