ٹیکری بارڈر پر سلسلے وار بھوک ہڑتال پر بیٹھے حصار کے بزرگ کسان

ببلو سہراوت کی قیادت میں پہنچے کسانوں نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف 24 گھنٹے کے لئے ہی نہیں، بلکہ وہ زرعی قوانین واپس لینے تک مسلسل بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر اپنی مخالفت کا اظہار کر سکتے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

حصار: ہریانہ میں حصار ضلع کے گاؤں کھرڑ علی پور کے ضلع سنگھ اور بزرگ صوبے سنگھ گھنگھس نیانا نے ٹیکری بارڈر پر آج سلسلے وار بھوک ہڑتال شروع کرتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ہندوستانی کسان کمیٹی کے ضلع صدر ببلو سہراوت کی قیادت میں پہنچے کسانوں نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف 24 گھنٹے کے لئے ہی نہیں، بلکہ وہ زرعی قوانین واپس لینے تک مسلسل بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر اپنی مخالفت کا اظہار کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے ضلع صدر ببلو سہراوت نے کہا کہ یہ تحریک صرف کسانوں کی لڑائی ہی نہیں ہے، بلکہ یہ تحریک لیبر قوانین کی حفاظت کرنے، تعمیری شعبہ کے مزدوروں کے فائدے میں رکاوٹ ختم کروانے، نجکاری بند کرکے غریب لوگوں کی روزی روٹی بچانے، خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے اور آئین بچانے کی ایک عوامی تحریک ہے اس تحریک میں ہر طبقے کے لوگ پہنچ رہے ہیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اب مرکزی حکومت کی صنعت کار پالیسیوں کے خلاف ہیں۔


ضلع صدر ببلو سہراوت نے سبھی طبقے کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ 26 جنوری کی کسان پریڈ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں حصہ لیں اور جو لوگ نہ پہنچ پائیں، وہ ضلع سطح پر ہونے والی پریڈ میں حصہ لے کر اپنی آواز مرکزی حکومت تک پہنچانے کا کام کریں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔