ممبئی میں سخت پولیس بندوبست میں نکلاعید میلادالنبی کا جلوس، جوش کی کوئی کمی نہیں

میکرون کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہیں اظہاررائے کی آزادی کے نام پر دیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کا خیال نہیں ہے کیونکہ انہیں محبت رسول کا پتہ نہیں ہے اس لئےانہیں اس معاملہ میں ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

آج سہ پہرعروس البلاد ممبئی میں سخت پولیس بندوبست میں جلوس عیدمیلادالنبی جنوبی ممبئی میں واقع تاریخی خلافت ہاؤس میں شمع رسالت کے پروانوں کا جوش وجذبہ برقرارنظرآیا۔ واضح رہے کہ خلافت کمیٹی کے زیر اہتمام عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس کے 10قائدین کے لیے ممبئی پولیس کے ایک ہزار سے زائد افسران،جوان اور اہلکار خلافت ہاؤس پر اور آس پاس تعینات کیے گئے تھے ۔ قائدین ایک رنگ برنگے پھولوں سے سجے ٹرک میں روانہ ہوئے۔

جنوبی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں بھنڈی بازار،مدنپورہ ،ہنس روڈ،اگری پاڑہ ،ناگپاڑہ،محمدعلی روڈ،جے جے جنکشن ،پائیدھونی اور کرافورڈ مارکیٹ اور محلوں کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔


شہر اور مضافاتی مسلم علاقوں میں چپےچپے پر باوردی اور سادہ لباس میں ہزاروں پولیس اہلکاروں کو مسلمانوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا بیشتر اپنے موبائل فون سے ویڈیو گرافی کرہے تھے۔عیدمیلاد کے موقع پر پولیس کی سختی کا اثر نظر آیا ،لیکن مسلمانوں کا عقیدت،محبت اور جزبہ میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا تھا۔

آل انڈیا خلافت کمیٹی کے احاطہ میں واقع ہال میں ایک چھوٹے سے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عالم دین اور مسجد بائیکلہ کے پیش امام وخطیب مولاناجبار ماہر القادری نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔انہوں نے مائیکل ایچ ہارٹ کی کتاب ہنڈریڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مصنف نے دنیا کی سو ایسی شخصیات کی فہرست بنائی اور ان میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اول مقام دیا ہے اور آپ کے بارے میں کہاہے کہ ابتداء میں جب حضور نے نبوت کا اعلان کیا تو ان پر صرف چار افراد ایمان لائے، لیکن آج 1400 سال گزر جانے کے بعد دنیا میں دیڑھ ارب سے زیادہ لوگ اللہ اور اس رسول پر ایمان لا چکے ہیں اور ہر روزاُن کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔


انہوں نے کہاکہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے اللہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ رسول اللہ پر بھی یقین ضروری ہے۔اللہ کا فرمان ہے کہ اطیعواللہ واطیعو الرسول کا حکم دے دیا ہے،اس سے قبل حافظ سید اطہر علی نے رسول اللہ کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالی اور واضح طور پر کہاکہ مسلمان کبھی بھی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اہانت برداشت نہیں کرسکتا ہے۔

اس موقع پرمولانا خلیل الرحمن نوری نے فرانس کے صدر میکرون کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہیں اظہاررائے کی آزادی کے نام پر دیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کا بھی خیال نہیں ہے کیونکہ انہیں محبت رسول کا پتہ نہیں ہے اس لئےانہیں اس معاملہ میں ہوش کے ناخن لینا چاہیئے۔


ابتداء میں خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزو نے مہمانوں کا استقبال کیا اورپولیس کی سختی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔انہوں نے جلوس کی اجازت کے لیے تعاون کرنے والے لیڈران اور عوامی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ہاشمیہ ہائی اسکول کے پرنسپل مولانا رضوان خان نے سیرت النبی پر اظہار خیال کرتے ہوئے مائیکل ہا رٹ کی کتاب کے اقتسابات پیش کیے اور کہاکہ ہارٹ کا کہناہے کہ آپ کی زندگی کے ہر ایک پہلو کو پیش کیا جاسکتا ہے بلکہ ریکارڈ موجود ہے۔اس تقریب میں اہم مسلم شخصیات اور عوامی نمائندے ایم ایل اے امین پٹیل ،ایم ایل اے رئیس شیخ،کانگریس ترجمان نظام الدین راعین،میمن کیمونٹی کے سربراہ اقبال میمن ،کارپوریٹر جاویدجنیجا،نعت گو تاج قریشی،اور دیگر معززین شامل تھے۔مسلم۔محلوں میں جگہ جگہ استقبال کیا گیا،حالانکہ اسٹیج کی اجازت نہیں دی گئی تھی ،لیکن جگہ جگہ جلوس کے قائدین کا شاندار استقبال کیا گیا۔نعرے تکبیر اللہ اکبر اور نعرہ رسالت یا رسول اللہ سے فضاء گونج اٹھی۔

شہرمیں ریاستی حکومت نے دو ہی جلوس کی اجازت دی تھی،خلافت کمیٹی کے علاؤہ سینٹرل عیدمیلادالنبی کمیٹی گھاٹکوپر کے زیر اہتمام عارف نسیم خان،سابق وزیر کی قیادت میں جلوس برآمد ہوا،امیرسنی دعوت اسلامی شاکر نوری نے قیادت کی جبکہ سابق ایم پی مولانا عبیداللہ اعظمی نے خیالات کا اظہار کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔