’انتخابی منشور میں تعلیم و روزگار کو ترجیح دی جائے‘، ایس آئی او کا مطالبہ

ایس آئی او نے اپنے طلبائی منشور میں متعدد مطالبات کو ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یوپی کے سرکاری و امداد یافتہ اسکولوں کے لیے ریاستی میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے 10 فیصدی سیٹیں ریزرو کی جائیں۔

ایس آئی او کا پرچم
ایس آئی او کا پرچم
user

یو این آئی

لکھنؤ: اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا نے تعلیمی اخراجات کے لئے جی ڈی پی کا 8 فیصدی حصہ مختص کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تعلیم و روزگار کے مسائل کو سیاسی پارٹیوں کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنانا چاہئے۔

آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہاں یوپی پریس کلب میں ایس آئی او یوپی سنٹرل نے طلبائی منشور جاری کیا۔ ایس آئی او نے اپنے طلبائی منشور متعدد مطالبات اور شفارشات کو اجاگر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یوپی سرکاری و سرکار امداد یافتہ اسکولوں کے لئے ریاستی میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے 10فیصدی سیٹیں ریزرو کی جائیں۔


طلبائی منشور کو لانچ کرتے ہوئے ایس آئی او کے سکریٹری برائے توسیع و استحکام طہور انور نے کہا کہ ’کووڈ کے بعد ریلیف پیکج، روزگار، صحت، انسانی حقوق، ٹیکنالوجی، ماحولیات، ادب، ثقافت و تنو کا فروغ اور بنیادی طور پر تعلیم اس طلبائی منشور کے اہم ایجنڈے ہیں۔ انہوں نے توقع کا اظہار کیا کہ سیاسی جماعتیں اپنا انتخابی منشور تیار کرتے وقت طلبہ کے اس منشور کو ملحوظ رکھیں گی اور اس کا مثبت جواب دیں گی۔

انور نے کہا کہ یہ منشور اترپردیش کے طلبا و نوجوانوں سے متعلق اہم مسائل کو ترجیح دیتے ہوئے تحقیق کے بعد تیار کیا گیا ہے جس میں ان مسائل کے حل کے لئے متعدد شفارشات و مطالبات شامل ہیں۔ تعلیم کے ساتھ طلبہ و نوجوانوں کے مسائل کو الیکشن کے ایجنڈے میں شامل کیا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ ایس آئی او نے اپنے مشور میں مولانا محمد علی جوہر ینورسٹی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں سے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یونیورسٹی کو مائنارٹی اسٹیس حاصل ہے لہذا اقلیتی طلبا کے فلاح کو ذہن میں رکھتے ہوئے تمام طرح کے مبینہ سیاسی انتقامی کاروائیوں سے یونیورسٹی کو دور رکھا جائے۔ یہ طلبا کے عین مفاد میں ہوگا۔


مدرسہ کی ڈگری کو بی اے کے مساوی قرار دینے، ریاستی یونیورسٹیز میں اردو، عربی و اسلامیات کے شعبے قائم کرنے، جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی شفارشات کو نافذ کرنے کے مطالبے کے ساتھ طلبہ میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے سبھی ریاستی یونیورسٹیوں، ڈگری کالجوں میں طلبہ یونین کے انتخابات کو بحال کرنے کے مطالبے کو اپنے منشور میں شامل کیا ہے۔ طلبہ تنظیم نے اپنے منشور میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں کمپیوٹر لیب، اسمارٹ کلاسز، لائبریری کے ساتھ جدید سہولیات دستیاب کرائی جائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔