تشہیر پر پابندی ختم ہوتے مایاوتی نے الیکشن کمیشن پر کیا حملہ، یوگی کے مندر-مندر دورے پر اٹھائے سوال

بی ایس پی سپریمو مایاوتی پر لگی پابندی اب ختم ہو چکی ہے اور 48 گھنٹوں کی مدت مکمل ہونے کے ساتھ ہی انھوں نے الیکشن کمیشن پر براہ راست حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کمیشن پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بی ایس پی لیڈر مایاوتی پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تحت لگی 48 گھنٹوں کی روک کی مدت آج صبح 6 بجے ختم ہو گئی۔ یہ مدت ختم ہوتے ہی مایاوتی نے جارحانہ رخ اختیار کر لیا ہے۔ انھوں نے انتخابی کمیشن پر نشانہ سادھتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر پابندی کے باوجود انھیں مندر مندر جانے پر کمیشن خاموش کیوں ہے؟

مایاوتی نے اس تعلق سے کئی ٹوئٹ کیے ہیں اور سوالات قائم کیے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی پابندی کے بعد مندر-مندر گھوم رہے ہیں، وزیر اعلیٰ یوگی ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں فائدہ ملے۔ مایاوتی نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے سوال کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی پر اس قدر مہربانی کیوں؟ مایاوتی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’انتخابی کمیشن کی پابندی کی کھلی خلاف ورزی کر کے یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی شہر شہر اور مندروں میں جا کر، دلت کے گھر کا کھانا کھانے وغیرہ کا ڈرامہ کر کے اس کو میڈیا میں مشتہر کروا رہے ہیں جس سے انتخابی فائدہ لینے کی غلط کوشش لگاتار ہو رہی ہے، لیکن الیکشن کمیشن ان کے تئیں مہربان ہے، کیوں؟‘‘

مایاوتی نے مزید لکھا ہے کہ ’’اگر ایسی ہی تفریق اور بی جے پی لیڈروں کے تئیں انتخابی کمیشن کا رویہ جاری رہے گا تو پھر اس انتخاب کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہونا ناممکن ہے۔ ان معاملوں میں عوام کی بے چینی کا حل کیسے نکلے گا؟ بی جے پی قیادت آج بھی ویسی ہی منمانی کرنے پر آمادہ ہے جیسا کہ وہ اب تک کرتی آئی ہے، کیوں؟‘‘

غور طلب ہے کہ مایاوتی نے 7 اپریل کو سہارنپور کے دیوبند میں اتحاد کی مشترکہ ریلی میں مسلمانوں سے ایس پی-بی ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد کو ووٹ ڈینے کی اپیل کی تھی۔ انتخابی کمیشن نے اس معاملے میں 11 اپریل کو نوٹس جاری کر مایاوتی سے جواب مانگا تھا۔ اس کے بعد پیر کے روز ان پر 48 گھنٹے کے لیے انتخابی تشہیر پر روک لگا دی۔ یہ پابندی منگل کی صبح 6 بجے شروع ہو کر 18 اپریل یعنی آج صبح 6 بجے تک کے لیے تھی۔