جموں و کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر 2.2 شدت ریکارڈ
معلومات کے مطابق زلزلہ صبح 1 بج کر2 منٹ پرآیا۔ اس کا مرکز 32.95 ڈگری شمالی عرض البلد اور 76.06 ڈگری مشرقی طول البلد میں 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔ تاہم کوئی جانی یامالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں پیر کی صبح ہلکے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 2.2 تھی۔ تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زلزلہ صبح 1 بج کر 2 منٹ پر آیا۔ اس کا مرکز 32.95 ڈگری شمالی عرض البلد اور 76.06 ڈگری مشرقی طول البلد میں 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔ اس سے قبل 19 جنوری کو لداخ کے لیہہ علاقے میں ریکٹر اسکیل پر5.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور اس کے جھٹکے لداخ اور جموں و کشمیر میں مختلف شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے تھے۔
مقامی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد نے میڈیا کو بتایا کہ صبح 11 بج کر51 منٹ پر ریکٹر اسکیل پر5.7 شدت کا زلزلہ آیا جس کا مرکز لداخ کے علاقے لیہہ میں تھا۔ زلزلے کے نقاط 36.71 شمالی عرض البلد اور 74.32 مشرقی طول البلد تھے۔ یہ زمین کی سطح سے 171 کلومیٹر نیچے آیا۔ 19 جنوری کو آئے زلزلے کے جھٹکے لداخ اور جموں و کشمیر میں مختلف شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے تھے۔ کسی بھی علاقے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
بتادیں کہ لداخ علاقہ اور وادی کے کچھ حصے زلزلہ کے لحاظ سے حساس علاقوں میں واقع ہیں۔ 2005 میں 8 اکتوبر کو صبح 8:50 بجے 7.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کا مرکز پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کے شہر مظفر آباد میں تھا۔ زلزلے نے مظفرآباد شہر کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے بالاکوٹ اور جموں و کشمیر کے کچھ علاقوں کو بھی متاثر کیا تھا۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 تھی، مرکلی اسکیل پر اس کی زیادہ سے زیادہ شدت 11 (انتہائی) تھی۔
سال 2005 کا زلزلہ افغانستان، تاجکستان اور سنکیانگ کے علاقے میں بھی محسوس کیا گیا تھا۔ اگرچہ شدت کے لحاظ سے یہ خطے میں آنے والا سب سے بڑا زلزلہ نہیں تھا لیکن اسے سب سے مہلک سمجھا جاتا ہے جو 1935 کے کوئٹہ زلزلے سے بھی کہیں زیادہ شدید ہے۔ یہ اس دہائی کی پانچویں سب سے مہلک قدرتی آفت تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔